کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 233
دوسرا خطبہ حبِّ دنیا کی ہلاکت خیزیاں امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد بن عبداﷲ السبیل حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: اے مسلمانو! اللہ کا تقوی اختیار کرو جیسا کہ تقوی اختیار کرنے کا حق ہے، اور زادِ راہ لے کر نکلو اور بہترین زادِ راہ تقوی ہی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: { وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَ ھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ} [البقرۃ: ۲۸۱] ’’ڈرو اس دن سے جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر کسی نے جو کچھ کیا ہو گا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا او ر ان پر ظلم نہیں ہو گا۔‘‘ منہاج الصالحین: انسان کی حقیقی سعادت وخوشی اور اس کے توفیق یافتہ ہونے کے دلائل میں سے اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا، اپنی ساری زندگی کے ہر قسم کے حالات میں شریعتِ الٰہیہ اور دین پر استقامت رکھنے والا ہو، خلوصِ دل سے اللہ کی طرف متوجہ رہنے والا ہو، اور صرف ایک اللہ کی بندگی پر کار بند ہو۔ مزید برآں دارِ آخرت کے لیے زادِ راہ جمع کرنے اور دائمی و آخری زندگی کے لیے تیاری سے اسے دنیا کی عارضی زیب وزینت کا حصول روکنے نہ پائے، یہی صالحین کا راستہ اور متقین کا منہج و طریقہ ہے جنکی اللہ تعالی نے اپنی کتابِ مقدس میں ان الفاظ میں تعریف فرمائی ہے: { رِجَالٌ لاَّ تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآئِ الزَّکٰوۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ} [النور: ۳۷] ’’ایسے لوگ جن کو تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی، اُس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔‘‘ یہ صالحین خرید و فروخت اور اپنی دنیوی مصروفیات کے باوجود اللہ کی عظمت و کبریائی کو دل