کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 231
پھونکوں سے یہ چراغ بجھا یا نہ جائے گا: آج کفار ویہود نے زمین پر نا حق فساد برپا کر رکھا ہے، قتل و غارت کرنے، عمارتِ اسلام کو گرا دینے، تخریب کاری کرنے، معصوموں کو گھروں سے نکال نکال کر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے، یہ ارضِ مقدس ارضِ فلسطین میں چاہے کتنا بھی طوفانِ بد تمیزی برپا کیے رکھیں انجام کار سرخروئی اور حسنِ عاقبت پھر بھی اسلام اور اہلِ اسلام ہی کا حق ہے۔ ان شاء اﷲ غلبہ و فتح، نصرت و ظفر اور کامیابی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، اور پھر صادق و صابر اور ثابت قدم ان مومنوں کے لیے ہے جو جانتے ہیں اور اس بات کا پختہ یقین رکھتے ہیں کہ صبر کا نتیجہ فتح ونصرت اور تنگی کے بعد کشائش و کشادگی اور مشکل کے بعدآسانی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے : { یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَ یَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَ لَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ، ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ} [التوبۃ: ۳۲، ۳۳] ’’یہ (کافر) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے، گو کافر ناخوش ہوں، اس نے اپنے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے وہ دیگر تمام مذاہب پر غالب کردے، اگرچہ مشرک برا مانیں۔‘‘ نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا حقیقی امتِ مسلمہ : اللہ کے بندو! امتِ اسلامیہ اگر فتح و نصرت، غلبہ وعزت، اور زمین پر اقتدار و حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود پہلے حقیقی معنوں میں ’’ امتِ مسلمہ ‘‘ بنے، اللہ تعالی کی توحید کو پورے خلوص واخلاص کے ساتھ اپنائے جو حقوق اللہ میں سے ایک