کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 228
بدلہ خون) طے شدہ حکم تھا ، دیت یا خون بہا وغیرہ دے کر چھوٹنے کی کوئی رعایت نہیں تھی ، بلکہ یہ ان کے لیے حرام تھی، ان پر مالِ غنیمت کا کھانا بھی حرام تھا اور اس طرح کے دیگر کئی شدید قسم کے احکام تھے جو اللہ تعالی نے اپنی رحمت و کرم نوازی اور فضل و احسان سے اس امت سے اٹھا دیے ہیں، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: { اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ بِہٖ وَ عَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} [الأعراف: ۱۵۷] ’’ مستحقِ رحمت وہ لوگ ہیں) جو ایسے رسول نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، وہ انھیں نیک کاموں کا حکم فرماتے ہیں اور بُرے کاموں سے روکتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور خبیث و گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں ، سو جو لوگ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ا ور اس نور کا اتباع بھی کرتے ہیں جو انکے ساتھ بھیجا گیا ہے ، ایسے لوگ پوری فلاح ونجات پانے والے ہیں۔‘‘ دینِ اجتماع واتحاد: اعلی مستقبل کی ضمانت صرف دینِ اسلام کے لیے ہے کیونکہ یہی وہ دین ہے جس کے ذریعے اللہ تعالی نے اجتماعی و معاشرتی نظام کی بنیادیں کچھ اس انداز سے قائم کی ہیں کہ اس کی تمام کڑیاں ایک دوسرے سے باہم یوں ملی ہوئی ہیں اورایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث ہیں جس طرح کہ کسی عمارت کی اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تقویت پاتی ہیں ، غرض اسلامی معاشرہ وہ عظیم معاشرہ ہے جس کی تصویر کشی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشادِ گرامی میں کی ہے جو صحیح بخاری ومسلم [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۶۶۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۸۶) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۶۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۸۵)