کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 202
سے صرف اس قدر الفاظ مستعار لیے جو ان بعض معانی کو بیان کرنے کے لیے اشد ضروری تھے جن کو بیان کرنے کے لیے اس کے اپنے پاس الفاظ موجود نہیں تھے، لیکن ان رومی، ایرانی اور یونانی قوموں کی قدیم ترین تہذیبوں کے باوجود ان کی زبانیں مسلمانوں کو اپنا گرویدہ نہیں کر سکیں، بلکہ انھوں نے تو ان کو اس زبان کے ساتھ مزید گہرا اور مضبوط تعلق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عجمی لوگ بھی اس کے سحر میں گرفتار تھے: اس عظیم الشان اسلامی تاریخ اور دلکش دین کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ دیگر قوموں کے باشندے دین و علم اور قرآن کی اس زبان کو سیکھنے میں بہت زیادہ رغبت اور سبقت کا اظہار کرتے تھے، بلکہ انھوں نے اس میں بڑی لیاقت پیدا کی اور اس عظیم الشان اسلامی شعور کے تحت، جس نے قرآن کی زبان کو دین اور وحی کی زبان ہونے کے ناطے بلند ترین مقامات پر فائز کر دیا، انھوں نے اس کے قواعد بنانے اور لغات تالیف کرنے میں حیران کن انداز میں شرکت کی۔ دنیا کے کونے کونے پر جہاں جہاں بھی امت اسلامیہ موجود ہے وہاں اس حدیث نبوی کی صدا گونجتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إن العربیۃ لیست لأحدکم بأب، ولا بأم، إنما ھي اللسان، فمن تکلم العربیۃ فھو عربي )) [1] ’’عربی کسی کا باپ یا ماں نہیں بلکہ یہ ایک زبان ہے۔ جس نے یہ زبان بولی وہ عربی ہے۔‘‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن اس کا معنی صحیح ہے، جس طرح شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس بات کا فیصلہ دیا ہے۔[2] عربی زبان۔۔۔ دشمنوں کا نشانہ: دینی بھائیو! اگر قرآن اور اسلام کی زبان اس قدر قوت و صلاحیت اور مرتبے کی مالک ہے تو پھر اس میں کوئی اچنبا نہیں کہ یہ دشمنوں کے تیروں کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ [1] ضعیف جدا۔ تاریخ دمشق (۲۱/ ۴۰۷) السلسلۃ الضعیفۃ (۹۲۴) [2] اقتضاء الصراط المستقیم (۱/ ۴۰۷)