کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 201
معیار اور دقیق میزان ہے، یہ امت کی شریان، تہذیب کا اساسی ستون اور قوت کا عظیم تر سرچشمہ ہے۔ اگر امت نے اپنی زبان ضائع کر دی تو یہ اپنی تاریخ و تہذیب کو ضائع کر دے گی، جس طرح یہ اپنے حال اور مستقبل کو ضائع کر رہی ہے۔ زبان انسانی تشخص کی علامت ہے: زبان اگر انسانی تشخص کی سب سے اہم نشانی نہیں تو کم از کم اس کے اہم اور عظیم ترین خدوخال میں سے ضرور ہے۔ زبان ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو اس کے اہل و عیال، قوم، دین اور ثقافت کے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ یہی تاریخ اور یہی جغرافیہ ہے، زبان امت کی تخلیقی قوتوں کا ایک مظہر ہے، جب قوتِ تخلیق کمزور ہوجائے تو زبان پر موت طاری ہوجاتی ہے اور امت انحطاط پذیر ہونا شروع ہوجاتی ہے، جب امت رجعتِ قہقری شروع کر دے اور انحطاط پذیر ہونا شروع ہوجائے تو یہی وہ موت اور کمزوری ہے جس کی وجہ سے نام تک مٹ جاتا ہے۔ تمام نئے اور پرانے تاریخی شواہد یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں کرتے ہیں کہ کسی ملک اور قوم نے اس وقت تک ترقی کی ہے نہ تہذیب کے محلات ہی کھڑے کیے ہیں جب تک اس نے علوم اور تعلیم کو اپنی قومی زبان میں، نہ کہ غیر ملکی زبان میں، عام نہیں کیا۔ عربی زبان ایک زرخیز زبان ہے: اے اہل اسلام! تاریخی شواہد اس بات پر گواہ ہیں کہ قرآن کریم کی زبان عصر نبوت سے لے کر خلافت عباسیہ تک مختلف ادوارِ حکومت میں معاشرے کی تمام دینی، سائنسی، اقتصادی، معاشرتی، سیاسی اور فوجی ضروریات کو بھرپور انداز میں پورا کرتی رہی ہے۔ عہد اموی میں بہت سارے دیوانوں کو عربایا گیا۔ مختلف معاشروں، صوبوں، فوجیوں اور عام (سول) زندگی کے انتظامی امور کا نظام قائم کیا گیا، اسی طرح بنو عباس کے ایام خلافت میں بھی اس زبان نے تہذیبی ضروریات پوری کیں اور مختلف زبانوں سے عربی میں ترجمے کی تحریک کا پورا پورا ساتھ دیا، بلکہ اس وقت یہ بلا شرکت غیرے میڈیکل، سائنس، ریاضی، فلکیات اور انجینئرنگ میں علم و تحقیق کی زبان تھی۔ اسلامی مملکت نے صدیوں سے دیگر قوموں کے ساتھ راہ و رسم رکھنے کے باوجود ان کی زبان