کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 199
ہر حال میں تسلیم و رضا: اے امت اسلام! اپنے دین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس سے بچو کہ اس دین پر ایسی کوتاہ عقلیں غالب آجائیں جن کی وجہ سے دین کو نقصان پہنچے۔ اپنے رب کی کامل شریعت کے متعلق، خواہ ہم اپنی عقلوں سے اس کا ادراک کرسکیں یا نہ کرسکیں، ہمارا یہ موقف ہونا چاہیے کہ ہم کہیں: { اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ، رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ}[آل عمران: ۷، ۸] ’’ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے، مگر جو عقلوں والے ہیں۔ اے ہمارے رب! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بے حد عطا کرنے والا ہے۔‘‘ میں نے جو کہا اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اگر اس میں کوئی غلطی ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں، میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں بے شک وہ ہمیشہ سے بڑا بخشنے والا ہے۔