کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 196
{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ} [الحج: ۸] ’’اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اﷲ کے بارے میں بغیر کسی علم کے اور بغیر کسی ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔‘‘ کسی صاحبِ علم کا کہنا ہے کہ جس شخص کو ہم دیکھیں کہ وہ وحی کی مخالفت کر رہا ہے اور اس پر عقل کو ترجیح دیتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم سے تہی دامن ہے۔‘‘ اور ایسے ہو بھی کس طرح سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَ مَا یَعْقِلُھَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ} [العنکبوت: ۴۳] ’’اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔‘‘ لہٰذا اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو، اور اس کی اس طرح قدر کرو جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے، بدعتوں سے بچو اور اپنی عقلوں اور آرا کے ساتھ شرعی نصوص میں بحث و تکرار سے دور رہو، اور ان میں سے کسی چیز کو بھی نصوصِ شرعیہ پر فوقیت نہ دو۔ جو عقل کے مطابق ہو اسے تم قبول کر لیتے ہو اور جو اس کے مطابق نہ ہو اسے تم قبول نہیں کرتے؟! یہ بہت بڑی مصیبت اور بہت بڑا رخنہ ہے جس کا دائرہ کار بہت سارے اسلامی ممالک میں بہت زیادہ وسیع ہوچکا ہے اور ان خیالات کے حامل افراد اپنے آپ کو عقل پسند، روشن خیال اور آزاد فکر خیال کرتے ہیں! پھر اے اہل اسلام! یہ بات بھی جان لیں کہ جو صرف اس وجہ سے بعض نصوص کی مخالفت کرتے ہیں کہ ان کی عقلیں ان کی متحمل نہیں ہوسکتیں یا وہ ان کی قائل نہیں ہوسکتیں یا کسی بھی دلیل سے وہ عقل کے پلڑے کو شریعت کے پلڑے پر وزنی کرنے کی کوشش کریں تو ایسے لوگ ان پانچ گروہوں کے اندر اندر رہتے ہیں جس طرح امام ابن قیم رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: پہلا گروہ: جنھوں نے اپنی عقلوں کے ساتھ وحی کی مخالفت کی اور اس پر عقل کو فوقیت دی۔ انھوں نے اصحابِ وحی سے کہا: ہمارے لیے عقل اور تمھارے لیے نقل!