کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 194
عقل کو نصوص کے تابع رہنا چاہیے: اﷲ کے بندو! خلاصہ یہ ہے کہ عقل ان متاخرہ زمانوں میں ایک زبردست ٹھوکر کھا چکی ہے، اور ایسے امور میں جاگھسی ہے جہاں اسے پیروی کرنے والی ہونا چاہیے تھا نہ کہ پیشوا۔ سلف صالحین رحمہ اللہ نے بھی قیاسات اور عقلی دلائل کا استعمال کیا ہے اور بالکل ہی اس سے انکار نہیں کیا، بلکہ انھوں نے اس سے انکار کیا ہے جو خراب اور شریعت کے خلاف ہو، اور اس کا خراب ہونا بالکل ظاہر ہو، اور وہ ان چیزوںمیں سے ہو جن کو بنیاد بناکر شریعت کی بعض نصوص کو باطل قرار دیا جاتا ہے، یا اس کی دلیل کی بنا پر ان میں تحریف کی جائے کہ یہ نصوص عقلی یقینیات کی مخالفت کرتی ہیں، جبکہ یہ ساری باتیں درحقیقت خیالات، اوہام اور خواہشاتِ نفس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، جن کے ہوتے ہوئے آدمی اس وقت تک تصویر اور ہیولے، اور خیال اور حقیقت کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جب تک وہ اندھے پن کی پیٹھ پر سواری نہ کرے جو اسے لے کر بے بصیرت اور بے ہدایت اندھا دھند گھماتا رہے۔[1] کس کی عقل معتبر ہے؟ پھر ہم ان جیسوں سے کہیں گے کہ اگر تم شریعت کے میدان میں اپنی عقلوں کو داخل کرنا چاہتے ہو تو کس بشر کی عقل سے ہم فیصلہ کروائیں؟ کیا یہ زید کی عقل ہے یا عمرو کی؟ کسی آدمی کی عقل ہے یا عورت کی؟ یا یہ کسی متوازن شخص کی عقل ہوگی یا خواہش پرست آدمی کی عقل؟! سو یہ حقیقت بھی یاد رہے کہ عقلی دلائل کم ہی متفق ہوتے ہیں بلکہ ہر آدمی کی عقل اسے وہ کچھ دکھاتی ہے جو دوسرے کی عقل اسے نہیں دکھاتی اور الحمد للہ یہ بات بالکل واضح ہے۔ ایک پرانی کہاوت ہے: ’’لو سکت الذي لایعلم لما کان ھناک اختلاف‘‘[2] ’’اگر وہ آدمی خاموش رہتا جسے علم نہیں تو کوئی اختلاف نہ ہوتا۔‘‘ جس نے چاند نہیں دیکھا اسے چاہیے کہ جنھوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ان کی [1] المنار المنیف (ص: ۶۶) [2] مجموع الفتاوی (۴/ ۷۳)