کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 192
پیچھا ہی کرنا چاہیے، اگر لوگ ایسا کرنا شروع کردیں تو وہ ایک دین پر ایک دن بھی نہیں نکالیں گے اور دوسرے دین میں منتقل ہوجائیں گے۔ اﷲ کی قسم! کچھ سنتیں ایسی بھی آتی ہیں جو کبھی رائے کے خلاف ہوتی ہیں، لیکن مسلمانوں کو ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا، اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: (( لوکان الدین بالرأي لکان أسفل الخف أولی بالمسح من أعلاہ، لقد رأیت رسول اللّٰه ﷺ یمسح علیٰ ظاہر خفیہ )) [1] ’’اگر دین رائے کے ساتھ ہوتا تو مسح کرنے کے لیے موزے کی نچلی جانب بالائی جانب کے برعکس زیادہ موزوں ہوتی، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کی بالائی جانب مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ ابوالزناد وغیرہ جیسے بزرگوں کا کہنا ہے: ’’ہم نے لوگوں میں سے جن بہترین اصحاب فضل اور فقہا کو پایا ہے وہ ہمیشہ بحث و تکرار اور بال کی کھال اتارنے والوں کو برا خیال کرتے تھے، صرف عقل کے ساتھ تمسک اختیار کی شدید مذمت کیا کرتے تھے، وہ ایسے لوگوں کے ساتھ میل ملاقات رکھنے سے منع کیا کرتے تھے کہ وہ گمراہ اور تحریف کرنے والے ہیں۔‘‘ امام اصبہانی رحمہ اللہ نے کہا: ’’جب آپ کسی ایسے آدمی کو دیکھیں کہ جب اسے کہا جائے کہ تم حدیث کیوں نہیں لکھتے؟ تو وہ کہے: عقل زیادہ موزوں ہے، تو جان لیں وہ بدعت والا ہے۔‘‘ بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا تو اس سے بھی شدید موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنت ترک کرنا، اس پر اعتراض کرنا اور اس کو نہ لینا پاگل پن کی ایک قسم یا مکمل پاگل پن ہے چاہے بظاہر محسوس نہ ہو۔ آپ کا قول ہے: ’’متیٰ عرفت لرسول اللّٰه حدیثا ولم آخذ بہ فأنا أشھدکم أن عقلي قد ذھب‘‘[2] [1] صحیح۔ سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۶۲) [2] دیکھیں: المدخل إلی السنن للبیھقي (ص: ۲۰۵) حلیۃ الأولیاء (۹/ ۱۰۶) صفۃ الصفوۃ (۲/ ۲۵۶) سیر أعلام النبلاء (۱۰/ ۳۴)