کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 190
جو عقل توفیق الٰہی کی معاونت کی حامل ہوتی ہے وہ آدمی کو فرض کی پاسداری، اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنے اور اس کی تسلیم و رضا کو اپنانے کی تلقین کرتی ہے، لیکن وہ عقل جو دھوکے کے پھندے میں آجاتی ہے وہ آدمی سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس علم کا گہرائی کے ساتھ کھوج لگائے جو صرف اللہ کے پاس ہے اور اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت اپنی تخلیق کے اسرار کو اس کے فہم کی رسائی سے دور رکھا ہے۔ موجودہ زمانے کا المیہ۔۔۔ عقل پرستی کی دعوت: اﷲ کے بندو! یہ سرسری انداز میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ درحقیقت تمہید اور ابتدائی کلمات ہیں جن کے ذریعے ہم اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ نسلوں کی عقلوں کے بارے میں یہ خدشہ ہے کہ کہیں ان میں تہہ در تہہ اندھیرے سرایت نہ کرجائیں، ان کی عقلوں میں شبہات اور انکار کے رجحانات آہستہ آہستہ داخل نہ ہوجائیں، پھر ان کے کیچڑ میں منہ مارنے والا روشنی کی ایک ہلکی سی کرن بھی نہ پاسکے! جس کے ذریعے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوسکے یا اس کی گمراہی اور کج روی سے نجات پاسکے۔ اس کا بہت بڑا سبب وہ قابل نفرت دہرا معیار ہے جو مختلف وسائل ابلاغ کے ذریعے آہستہ آہستہ اس میں جگہ بنا رہا ہے جس میں حق و باطل، صحیح و ضعیف، عقل و شریعت اور اچھا اور برا باہم دست و گریبان ہیں، اگر ایک مرتبہ حق کا بول بالا ہوتا ہے تو دس مرتبہ باطل کا سر اونچا ہو جاتا ہے۔ اس کام کے لیے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے باقاعدہ صحافت کے شعبے کے ساتھ منسلک بعض اصحابِ قلم کو بھرتی کیا جاتا ہے جو اس بات کی سب سے سچی گواہی ہے کہ یہ تمام ذرائع ابلاغ دین اسلام کی روح، شریعت اور اعتقاد کے دفاع کے لیے استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ یہ میڈیا بعض ایسی قلموں کے لیے سیاہی کا کام دیتا ہے جو نئے نئے رجحانات لوگوں کے ذہنوں میں پختہ کرتے ہیں، یہ لکھاری ان ذرائع کے ذریعے اپنے مقاصد سے پردہ اتارتے ہیں اور عقل کی تعظیم اور تقدیس (Rationalism)کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور اسے بہت ساری شرعی نصوص قبول کرنے کے لیے جبری حاکم بنا کر اس کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں، اس طرح یہ لوگ شریعت میں مرد کی عورت پر برتری، حدود و تعزیرات، ولاء اور براء اور عورت کے متعلقہ کئی تسلیم شدہ مسائل کو عقل کے پیمانے پر پرکھتے ہیں۔