کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 187
مَّا تَشْکُرُوْن} [الملک: ۲۳] ’’کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔‘‘ عقل کی قدر وہی جانتا ہے جسے یہ ہبہ ہوتی ہے، وگرنہ بے عقل اور صحرا میں چلنے والا اونٹ دونوں برابر ہیں۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی اس حکمت میں غور و فکر کرے کہ ایک نو مولود (بچہ) اکتسابی عقل کے بغیر کیوں ہوتا ہے تو اسے اس وقت اس نعمت کے اثر کا ادراک بخوبی ہوسکتا ہے، اس کو یہ چیز پہلے نہ دے کر پھر عطا کی گئی ہے تاکہ اس کا اس کے متعلق احساس زیادہ پر اثر اور مفید ہو۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: { وَ اللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْم بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ} [النحل: ۷۸] ’’اور اﷲ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اے انسان! اگر تو اسی طرح عقلمند پیدا ہوتا جس طرح تو اپنے بڑے ہونے کے دنوں میں ہے تو تمھارے لیے تمھاری زندگی بہت زیادہ کٹھن اور بوجھل ہوجاتی، کیونکہ جب تم شیر خواری کی حالت میں ہوتے ہو تو تمھیں سب اٹھاتے ہیں، ماں کی گود میں عاجز اور قیدی بن کر پڑے رہتے ہو، اگر تم ان لوگوں میں ہوتے جو والدین سے محروم ہو جاتے ہیں، تو تم حیران و پریشان رہتے، لیکن یہ محض حکمت الٰہی، اس کی تمھارے ساتھ رحمت اور بہترین تدبیر سازی ہے۔‘‘[1] عقل کی دو قسمیں: سامعین محترم! یہ حقیقت بھی ذہن نشین کرلیں کہ عقل کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ پیدائشی عقل۔ ۲۔ اکتسابی (ذاتی محنت سے حاصل کردہ) عقل۔ [1] مفتاح دار السعادۃ (۱/ ۲۵۷)