کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 185
کی وجہ سے خاندانوں کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ایسا کرنے والوں سے اللہ ہی سمجھے اور ان محبت کرنے والوں کے لیے وہی کافی ہے۔ کیا امت اسلامیہ کو یہ لائق نہیں کہ وہ کامیاب اور خوشحال معاشرتی زندگی گزارنے کے لیے اسلامی طریقے اپنائے؟ وہ طریقے جو اس پر محبت اور الفت کے پھریرے لہرادیں تاکہ جدائی اور طلاق کے تناسب میں کمی واقع ہوجائے، جبکہ صورتحال یہ ہے کہ طلاق کے اعداد وشمار خطرناک حد تک پہنچ چکے ہیں، کیا ہم ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا ہماری قابل احترام بہنیں ایسا کرنے پر راضی ہیں؟! یہی امید لیے میں اپنی بات ختم کر رہا ہوں۔ ہمیں سچے دل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ اللہ ہی سے سوال ہے کہ وہ ہم سب کو ان کاموں کی توفیق دے جن میںاس کی خوشنودی ہے، اور ہمیں اس سے بچائے جس میں اس کاغصہ اور نا راضی ہے۔ وہی سننے والا اور سچی امید کا دامن ہے۔