کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 164
کردیں، عقیدہ متزلزل کردیں، حیا مجروح کردیں، بے حیائی کا شکار بنادیں تو پھر یہ ہر گز جائز نہیں، چاہے لوگ اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ سفر اسلام کی نظر میں: ۵۔ دین اسلام سفر کرنے پر کوئی قد غن نہیں لگاتا بلکہ کبھی تو سفر شرعی اغراض ومقاصد کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔ امام ثعالبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سفر کی ایک فضیلت یہ ہے کہ مسافر شہروں اور علاقوں میں عجیب وغریب اشیا کا مشاہدہ کرتاہے، اور لوگوں کے آثار و باقیات کے محاسن ملاحظہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔‘‘ تِلْکَ الطَّبِیْعَۃُ قِفْ بِنَا یَا سَارِ حَتّٰی أُرِیْکَ بَدِیْعَ صُنْعَ الْبَارِيْ فَالْأَرْضُ حَوْلَکَ وَالسَّمَائُ اھْتَزَّتَا لِرَوَائِعِ الْآیَاتِ وَالْآثَارِ ’’یہ فطرت ہے اے راہ گزر! یہاں ٹھہر کہ میں تجھے پروردگا ر کی انوکھی کاریگری دکھاؤں، تیرے ارد گرد زمین وآسمان خوشنما نشانیوں اورآثار کو دیکھ کر جھوم رہے ہیں۔‘‘ کہا جاتا ہے: سفر وسیلہ ظفر ہے۔ کھڑا پانی خراب ہوجاتا ہے سورج اگر افق ہی میں کھڑا رہے تو جل جائے۔ وَالْأَسَدُ لَولَا فِرَاقُ الْغَابَۃِ مَا افْتَرَسَتْ وَالسَّھْمُ لَولَا فِرَاقُ الْقَوْسِ لَمْ یُصِبْ ’’شیر اگر جنگل کو نہ چھوڑیں تو درندگی نہ کریں، اور تیر جب تک کمان کو نہ چھوڑے تب تک ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ لیکن اسلام میں سفر کے شرعی ضوابط اور حدود ہیں۔ ان آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ