کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 161
عقیدے کے ساتھ وفادار رہتا ہے، اپنی اصول پسندی اور شخصیت پر فخر کرتا ہے، اپنے عقیدے اور بنیاد پر ناز کرتا ہے، اسے اپنے پیغام پر عمل کرنے اور اپنے رب کی بندگی کرنے سے کوئی زمان روک سکتا ہے نہ کوئی مکان ہی۔ اس کا جینا بھی اللہ کے لیے ہوتا ہے اور اس کے تمام اعمال بھی اپنے آقا ومولیٰ کی رضا کے لیے ہوتے ہیں: { قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ} [الأنعام: ۱۶۲، ۱۶۳] ’’کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔‘‘ جہاں بھی وہ جائے اور جس جگہ بھی ڈیرا ڈالے وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اوراپنے رب کی اطاعت ہی کو اپنا اوڑنا اور بچھونا بناتا ہے۔ ایک سچے مسلمان، مضبوط مومن اور مثبت انداز فکر کے حامل امتی کا یہی منہج اور اسلوب حیات ہوتا ہے۔ ان گزشتہ دہائیوں میں امت جس سب سے بڑی مصیبت کا شکار ہے وہ یہ ہے کہ غیر ضروری اشیا کی فکر اور اسلام کے ساتھ منفی انداز میں اس کی نسبت کا عام رواج ہو چکا ہے۔ یہ رواج اس قدر عام ہو چکا ہے کہ زندگی کے اکثر گوشوں پر چھا چکا ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسی نسل اور پود پرورش پارہی ہے جو حقیقی اسلام کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کر رہی ہے اور اپنی شخصیت کی تعمیر میں گمراہ سوچ کی گندگیوں اور حرام رویوں کے مظاہر سے خمیر لے رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ نسل واضح شکست خوردگی کے ساتھ قابل نفرت اور لائق مذمت انداز میں تشبیہ اور تقلید کے فیشن کے سراب کے پیچھے اندھا دھند دوڑ رہی ہے۔ اور مقام افسوس ہے کہ یہ نام نہاد مسلمان،مسلمانوں کی صفوں میں پھیلے ہوئے سیکو لرزم کی چمک دمک سے اندھے ہوچکے ہیں اور اپنی دینی شناخت اور اسلامی شخصیت کھو چکے ہیں۔ لہٰذا آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فرزندان اسلام کے دلوں میں اسلامی غیرت کی روح کو پھر سے جگایا جائے۔ کیونکہ فرمانِ ربانی ہے: