کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 156
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے معاملے میں اسبابِ برکت اور موافقتِ الٰہی پر روشنی ڈالتے ہوئے امت سے فرمایا: (( أعظم النساء برکۃ أیسرھن مؤنۃ )) [1] ’’وہ عورت سب سے زیادہ بابرکت ہے جس کا خرچہ آسان ہو۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’عورتوں کے حق مہر میں غیر معمولی اضافہ نہ کرو، اگر یہ دنیا میں عورتوں کے حق میں کوئی باعث عزت چیز ہوتی، اور اﷲ تعالیٰ کے ہاں کوئی تقوے کا سبب ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے پہلے اس کا اہتمام کرتے۔‘‘[2] آسانیاں پیدا کرو: اﷲ کے بندو! اﷲ تعالیٰ سے ڈر جاؤ، نوجوان نسل کی شادی کرنے میں گہری دلچسپی لو اور ان کے لیے نکاح کے اسباب میں آسانیاں پیدا کرو تاکہ وہ مکمل سکون اور راحت کے ساتھ اس کی طرف راغب ہوں، اچھے خاندانوں کی بنیاد رکھیں، جو امت میں ایک فعال اور متحرک اینٹ بن سکیں۔ یہی وہ چیز ہے جو معاشروں کی اصلاح کر سکتی ہے، امت کو خوشی دے سکتی ہے، اس کے معاملات کی درستی اور حالات کی اصلاح کر سکتی ہے اور اپنے فرزندوں کو عزت اور ترقی کے تخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے کی تمنا پوری کر سکتی ہے۔ [1] ضعیف۔ مسند أحمد (۶/ ۱۴۵) اس کی سند میں ’’ابن سخبرہ‘‘ راوی مجہول ہے۔ البتہ ایک روایت بایں الفاظ حسن سند کے ساتھ مروی ہے: ’’إن من یمن المرأۃ تیسیر خطبتھا وتیسیر صداقھا وتیسیر رحمھا‘‘ مسند أحمد (۴۱/ ۲۸) نیز دیکھیں: إرواء الغلیل (۶/ ۳۴۸) [2] صحیح۔ سنن الدارمي (۲/ ۱۹۰)