کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 152
نیک عورت کا انتخاب: جو شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی راہنمائی کرتے ہوئے اسے نیک، صحیح دین والی، اچھے اخلاق کی مالک، پاکیزہ تربیت کی حامل، بہت محبت کرنے والی اور بکثرت اولاد پیدا کرنے والی عورت کو بطور بیوی منتخب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( تنکح المرأۃ لأربع خصال: لمالھا، و لحسبھا و لجمالھا و لدینھا، فاظفر بذات الدین، تربت یداک )) [1] ’’عورت کے ساتھ نکاح کرتے وقت چار چیزیں مد نظر رکھی جاتی ہیں: اس کا مال، حسب و نسب، خوبصورتی اور دینداری۔ دین دار ہی کو بیوی بنانے میں کامیاب ہونا تمھارے ہاتھ خاک آلود ہوں!‘‘ سنن ابی داود اور نسائی میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہت زیادہ محبت کرنے والی اور کثرت سے بچے جننے والی عورت کے ساتھ شادی کرو، کیونکہ میں تمھاری کثرت کے باعث دیگر امتوں پر فخر کروں گا۔‘‘[2] رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر نیک بیوی منتخب کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ایسی عورت سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ازدواجی حقوق ادا کرے گی، خاوند کے متعلقہ معاملات ذمے داری سے ادا کرے گی، بچوں کی تربیت کا اہتمام کرے گی اور تقویٰ اور ایمان کی بنیاد پر خاندان کی عمارت تعمیر کرے گی۔ لیکن اگر بیوی کمزور دین کی مالک اور بداخلاق ہو تو پھر اس سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایک اچھے خاندان کی تعمیر کرے گی، اس کے ہوتے ہوئے سکون محسوس ہوسکتا ہے نہ راحت ہی میسر آسکتی ہے، بلکہ ایسی بیوی خاوند کے لیے بلائے جان بھی بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے حقیقی حسن کو دیکھے بغیر، جو دین، شائستگی اخلاق اور اچھی تربیت کے زیور سے آراستہ ہوتا ہے، محض ظاہری خوبصورتی کے دھوکے میں آنے سے خبردار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۰۹۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۶۶) [2] صحیح۔ سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۲۲۷) سنن البیھقي (۷/ ۸۱)