کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 146
طرح ہو جاتا ہے جس کے متعلق شاعر کہتا ہے: ’’وداوني بالتي کانت ھي الداء‘‘ ’’میرا علاج اس کے ساتھ کر جو بذات خود بیماری ہے۔‘‘ یا جس طرح شرابی شراب کے ذریعے علاج کرتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات کوئی تفریح ایسی ہوتی ہے جس کا صرف ایک مرتبہ کا استعمال علم اور تعلیم نفس کے مضبوط محل کو زمین بوس کردیتا ہے۔ اور اﷲ کی قسم کتنی ہی ایسی ایک گھڑی کی لذتیں ہیں جو ایک طویل غم کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں ہے: { اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} [النحل: ۹۵] ’’بے شک وہ چیز جو اﷲ کے پاس ہے وہی تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ نیز فرمایا: { مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} [النحل: ۹۶] ’’جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اﷲ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور یقینا ہم ان لوگوں کو جنھوں نے صبر کیا، ضرور ان کا اجر بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ تفریح کی حدود: لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور جان لوکہ اسلامی شریعت ایک نہایت روشن شریعت ہے جو بالکل کامل متوازن اور اعتدال پسند ہے، اسلام نے انسان کو حقِ تفریح عطا کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس تفریح میں کچھ مفید ہے اور کچھ غیر مفید۔ سنن نسائی میں صحیح حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر کھیل کود باطل ہے مگر آدمی کا اپنے گھوڑے کو سدھانا، اپنے اہل کے ساتھ خوش طبعی کرنا اور تیر اندازی کرنا۔‘‘[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: [1] سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۵۷۸)