کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 145
انوکھی چیز کے اسیر ہوجاتے ہیں، اور تفریح اور دل لگی کے میدان میں آنے والی ہر نئی چیز کو اپنانے کے لیے اس کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔ شعوری پابندیوں سے آزاد تفریح ایک بڑا خطرہ: سامعین محترم! اس میں کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ ہم میں سے اکثر کے ہاں فکری سستی اور اخلاقی اقدار کو کنٹرول کرنے والے ضابطے کا کمزور اور خستہ ہونا یہ دو ایسی حالتیں ہیں جنہیں لوگ تفریح ظرافت اور بذلہ سنجی کے لیے بہترین اوقات شمار کرتے ہیں۔ یہاں خطرہ چھپا بیٹھا ہے اور بیماری زوروں پر ہے۔ اللہ کے بندو! شعوری پابندیوں سے آزاد کھلی تفریح یقینا ایک ایسی چیز ہے جو اسلام کی اصالت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے، اور یہ اصالت اس کی وجہ سے ان دوخطروں کے درمیان لڑھکتی رہے گی۔ ایک اشیاء کے مفاہیم میں خطرہ اس طرح سے کہ جو معلوماتی مقابلے کروائے جاتے ہیں (اگر ان میں معلومات نام کی کوئی چیز ہو تو) ان میں سے اکثر کی بنیاد فکری تضادات جمع کرنے یا ثقافتی کشمکش کو پروان چڑھانے یا مسلمانوں کے ہاں تسلیم شدہ حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے پر ہوتی ہے، اس بات سے قطع نظر کہ ان میں تاریخ اور زندگی کی جو مادی تفسیر کی جاتی ہے یا کم از کم ایسی چیزوں کو بکثرت بحث کے لیے پیش کیا جاتا ہے جس کی کسی ذہین آدمی کو ضرورت ہوتی ہے نہ کوئی کند ذہن اس سے مستفید ہی ہوتا ہے۔ اور دوسرا خطرہ۔ اللہ کے بندو۔ سیٹلایٹ کے ذریعے پیش کیے جانے والے تفریحی چینلز اور وسائل ہیں جو معلومات اور شہوات کے حوالے سے مختلف دلچسپ طریقوں کے ذریعے گمراہ کن مفہوم پھیلاتے ہیں تاکہ ڈراموں، دیو مالائی قصے کہانیوں، فتنہ خیز نمائشوں کے ذریعے یا پھر جادو اور شعبدہ بازی اور ان جیسی دیگر اشیا کے توسط سے فکر اور سوچ میں نقب لگائیں۔ بے شک دونوں خطروں کا انجام ایک خطرناک پھوٹ ہے جو ازدواجی بد سلوکی یا اسلامی خاندان کے افراد میں دوری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جب کہ یہ مسائل تو درکنار ان سے بڑھ کر قتل، اغوا، خود کشی، ریشہ دوانی اور منشیات کا استعمال اور اس طرح کے دیگر کئی بہت زیادہ بدصورت معاملات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ جس کو اس طرح کی تفریح کی لت پڑ جائے اس کا حال اس شخص کی