کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 142
شریک ہوتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش طبع تھے، آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے پاس شعروشاعری کرتے، جاہلیت کی باتیں ذکر کرتے اور ہنستے، جب وہ ہنستے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تبسم فرماتے۔[1] امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’الأدب المفرد‘‘ میں حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’اصحاب رسول نہ راہ حق سے منحرف تھے اور نہ زاہد خشک اور مردہ دل ہی۔ وہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کو شعر سنایا کرتے اور اپنے زمانہ جاہلیت کے معاملات ذکر کرتے، جب کسی کے دین کے بارے میں کوئی بات کی جاتی تو اس کی آنکھوں کے پپوٹے گھوم اٹھتے۔‘‘[2] حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’میں حلال دل لگی (کھیل کود) کے ذریعے اپنے نفس کو تازہ دم رکھتا اور راحت پہنچاتا ہوں، جس کی وجہ سے وہ حق کے لیے زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے۔‘‘[3] ابن ابی نجیح نے اپنے باپ سے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’مجھے یہ پسند ہے کہ آدمی اپنے گھر میں بچے کی طرح رہے، اگر اس سے کوئی ضرورت طلب کی جائے تو پھر مرد بن جائے۔‘‘[4] امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’دلوں کو راحت پہنچاؤ اور ان کے لیے حکمت آمیز لطائف ڈھونڈو، جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں اسی طرح یہ بھی اکتا جاتے ہیں۔‘‘[5] امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۷۰) [2] حسن۔ الأدب المفرد (ص: ۱۹۵) [3] تأویل مختلف الحدیث (ص: ۲۹۵) [4] شرح السنۃ البغوی، رقم الحدیث (۳۶۰۷) [5] جامع بیان العلم (۱/ ۲۰۸)