کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 137
اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ معزز ہیں، آپ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے، اتنی دیر تک آدمی کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ رکھے بلکہ جب تک اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کے ساتھ محبت نہ رکھے، جس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قصے میں مذکور ہے۔ [1] اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ ہمارے سلف صالحین ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت رکھنے والے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ محافل میلاد نہیں سجائیں، بلکہ انھوں نے اس سے منع اور خبردار کیا ہے کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ عید میلاد منانا محبت کا عنوان نہیں بلکہ آپ کی محبت کا اظہار آپ کی فرمانبرداری، اطاعت گزاری اورآپ کی سیرت اپنانے میں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرز عمل تھا۔ اس لیے اللہ کے بندو! تقویٰ اختیار کرو، اپنے رب کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو تو ہدایت پاؤ گے، اور اپنے نبی کی سنت پر عمل کرو کامیاب ہو جاؤ گے۔ ارشاد ربانی ہے: { وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ} [الحشر: ۷] ’’اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ اور اﷲ سے ڈرو، یقینا اﷲ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ ابتداع نہیں اتباع کا راستہ اختیار کرو: مسلمانو! یہ بات جان لو کہ اس ربیع الاول کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی، اسی میں آپ نے ہجرت فرمائی اور اسی میں آپ کی وفات ہوئی، لہٰذا یہ ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم اس مہینے کو خوشی منانے یا اظہار غم کے لیے باقاعدہ تہوار کا درجہ دے دیں بلکہ جو کرنے کا کام ہے وہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو مد نظر رکھیں اور آپ کی عبادت، دعوت، تبلیغ اور جہاد میں آپ کی اتباع کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے دین مکمل کر دیا اور اپنی تمام مخلوق پر اپنی نعمت پوری کی۔ لہٰذا آپ کے اقوال و افعال کو اپناؤ، یہی تمھاری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا سبب اور بخشش کا [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۲۵۷)