کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 135
اﷲ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو اور اﷲ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہر معاملے میں نمونہ ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بھلائی کی طرف امت کی راہنمائی کی ہے اور ہر برائی پر خبردار کیا ہے۔[1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے افعال، اقوال اور تقریرات سے ہر اچھائی کی دعوت دی ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی وجہ سے دلوں کو علم، یقین اور ایمان سے مالا مال کر دیا۔ تمام بندوں پر عدل، رحمت اور شفقت کا سایہ کردیا، اچھے اخلاق کو گھٹیا عادات سے پاک کردیا، تمام فضائل اور اعلیٰ اقدار کو مکمل کردیا، آپ پر ایمان رکھنے والے شرک کے بعد توحید و اخلاص کے مجسمے بن گئے، انحراف اور کجروی کے بعد ہدایت، استقامت اور توفیق الٰہی کی راہ کے مسافر بن گئے، فتنوں اور افتراقات کے بعد محبت اور بھائی چارے کی عملی تصویر بن گئے، قطع رحمی اور والدین کی نافرمانی کے بعد صلہ رحمی کرنے والے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہوگئے، ظلم وجور اور بدکرداروں کے بعد عدل و انصاف اور حقوق و واجبات کو ادا کرنے والے ہوگئے۔ آپ رحمۃ للعالمین ہیں: بلا شبہ آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام لوگوں کے لیے باعث ہدایت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیج کر فساد کو اصلاح میں اور بدبختی کو نجات میں بدل ڈالا۔ آپ کی روادارانہ شریعت اور قابل قدر تعلیمات ہی اتفاق پیدا کرنے، امن بحال کرنے اور اطمینان پھیلانے کی ضامن ہیں۔ جب تک مسلمان ان پر عمل پیرا رہے ان کی یہی حالت رہی لیکن جونھی اکثر لوگوں نے قرآن و حدیث کی روشنی کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ سے راہنمائی لینا شروع کردی تو وہ ان کی مضبوط رسی سے علیحدہ ہوگئے۔ انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ قطع تعلقی شروع کردی اور آپس میں نفرت، بغض اورسازشیں کرنا شروع کردیں، دینی غیرت کمزور ہوگئی، ایمانی بھائی چارہ صرف نام کی حد تک رہ گیا، خیالات میں اختلاف پیدا ہوگیا، خواہشات کی کثرت ہوگئی۔ ہر کوئی اپنی رائے کے سحر میں کھو گیا اور ہر کسی نے اپنے خیالات اور خواہشات کو حق کا نام دے دیا جبکہ اکثر لوگوں نے اپنے دینی معاملات میں حقائق کے بجائے صرف مظاہر پر اکتفا کرلیا۔ لہٰذا جس سے ان کو ڈرایا جاتا تھا بالآخر وہی ہو کر رہا کہ دشمن ان پر جھپٹ پڑے، دوست منتشر ہوگئے، دوری افتراق اور لڑائی جھگڑا ان کا مقدر ٹھہرا، جس کے نتیجے میں دینی بصیرت کمزور پڑ گئی اور سنتِ رسول سے اعراض برتا جانے لگا۔ [1] دیکھیں: السلسلۃ الصحیحۃ (۷/ ۶۷)