کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 133
انْفِصَامَ لَھَا وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} [البقرۃ: ۲۵۶] ’’پھر جو کوئی باطل معبود کا انکار کرے اور اﷲ پر ایمان لائے تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جسے کسی صورت ٹوٹنا نہیں اور اﷲ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ مومن اپنے ایمان کی وجہ سے کوئی ضائع مخلوق یا کوئی مہمل نمبر نہیں ہوتا، چاہے ساری دنیا ہی اس کے خلاف اکٹھ کیوں نہ کرے۔ قرآن مجید میں ہے: {اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ} [آل عمران: ۱۷۳] ’’وہ لوگ کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ بے شک لوگوں نے تمھارے لیے (فوج) جمع کر لی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس (بات) نے انھیں ایمان میں زیادہ کر دیا اور انھوں نے کہا ہمیں اﷲ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔‘‘ نیز فرمایا: { وَ مَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَ قَدْ ھَدٰنَا سُبُلَنَا وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ} [إبراھیم: ۱۲] ’’اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اﷲ پر بھروسا نہ کریں، حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے راستے دکھا دیے ہیں اور ہم ہر صورت اس پر صبر کریں گے جو تم ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے اور اﷲ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔‘‘ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈر جاؤ، اپنے دین اور حق کو مضبوطی سے تھام لو اور اپنے رب کے بارے میں حسن ظن رکھو۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} [آل عمران: ۲۰۰] ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اﷲ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔‘‘