کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 130
ہزاروں سالوں سے کافر اس سنجیدہ کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کی نسلوں کو قرآن کریم سے دور کردیا جائے اور ان میں ان کے دین کے متعلق جہالت پھیلائی جائے۔ کافر طاقتیں بہت زیادہ چالباز ہیں، جہاں نرمی کی ضرورت ہو وہاں نرم پڑ جاتی ہیں، اور جہاں سختی کی ضرورت ہو وہاں سخت ہوجاتی ہیں۔ نرمی کی حالت میں یہ زہر پھیلاتی رہتی ہیں اور سختی کے عالم میں یہ درندگی کو بھی مات دے دیتی ہیں، ہر معاہدے کو توڑ دیتی ہیں، ہر مسئلے میں دھوکا دہی سے کام لیتی ہیں۔ ان کے ہاں مقصد ہر وسیلے کو جائز کردیتا ہے، جاسوسی کرنے، فساد مچانے، لوگوں کے ساتھ کھیلنے اور حقائق مسخ کرنے کے فن میں یہ طاق ہوتی ہیں۔ مسلمانو! ان جیسے حالات میں ضروری ہے کہ پیشانیوں پر سوچ و بچار کی شکنیں پڑجائیں، لوگ سنجیدہ ہوجائیں اور آنکھوں سے نیند اڑ جائے۔ قوت کا سر چشمہ صرف اسلام: احباب کرام! ان تمام حالات کے باوجود یہ خطرناک دشمن اتنا بھی ناقابل شکست نہیں جس قدر یہ خوفزدہ، شکست خوردہ اور قنوطی حضرات خیال کرتے ہیں۔ دشمنوں پر فتح پانا، چاہے ایک طویل وقت ہی کیوں نہ گزر جائے، صرف ایک ہی ہتھیار کے ذریعے ممکن ہے جسے سچائی، اخلاص، سنجیدگی اور عزیمت کے ساتھ استعمال کیا جائے اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اسلحہ ہے، اللہ پر ایمان کا ہتھیار ہے، توحید اور عبادت میں اخلاص کا حربہ ہے، اور جنگ اور امن کے عالم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کو اپنانے کا راستہ ہے۔ مسلمانوں کو اس حقیقت کا شعور ہونا چاہیے کہ صرف اکیلا اسلام قوت کا سر چشمہ ہے جو بفضلہ تعالیٰ ان کے چراغوں کو روشن کرسکتا اور ان کی مشعلیں جلا سکتا ہے، اسلام کے بغیر وہ شیشے کے خالی خول ہیں جن کو کوئی تیل جلا سکتا ہے نہ کوئی چقماق ہی روشن کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کی اگر عزت، بزرگی و عظمت حق ہے تو صرف اسلام کے ساتھ، اگر وہ اس سے انکار کریں یا اجنبیت کا اظہار کریں تو اللہ کے سوا نہ کسی کو دوست پائیں گے نہ مددگار، اسلام کے بغیر تو وہ آپس میں لڑنے والی قومیں،بکھرے ہوئے ریوڑ بلکہ گرے ہوئے سامان کی طرح بے قدر و قیمت اور خالی صفروں کی طرح بے مایہ ہیں۔اس لیے امت کو خطرات میں کودنے کی تربیت دینی چاہیے، تاکہ