کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 125
پهلا خطبہ امت مسلمہ کی طاقت کا سرچشمہ امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: اے لوگو! میں تم کو اور اپنے آپ کو تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں۔ اﷲ تم پر رحمت کرے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ۔ جو اپنے رب سے ڈر گیا وہ کامیاب اور خوش نصیب ٹھہرا، اور وہ روزِ جزا وعدے کے مطابق بہترین صلے کا حقدار ہوگا۔ اپنے رب کی بندگی اور اطاعت شعاری اخلاص کے ساتھ کرو، جمعے اور جماعت کا التزام کرو، نیک اعمال میں سبقت لے جاؤ، اس دن کے لیے تیاری کرو جس دن خرید وفروخت ہوگی نہ کو ئی دوستی ہی کام آئے گی۔ ان لوگوں سے عبرت حاصل کرو جو تاریخ کے ورق بن چکے ہیں اور اس بات سے نصیحت حاصل کرو کہ موت نے حد سے گزرنے والوں کا نام تک مٹادیا ہے۔ حق کی قوت: مسلمانو! حق کی قوت کس قدر خوشنما ہے جو ٹھنڈک اور سلامتی بن کر ابھرتی ہے، ٹوٹے ہوئے دلوں پر ٹوٹنے والے مظالم کو روک دیتی ہے، اور کمزوروں اور مظلوموں پر برسنے والی تکلیفوں کو مٹا دیتی ہے۔ حق کی تائید کرنے والی قوت کی فضیلت وہی جانتا ہے جو ایک زمانے تک ظلم کی چکی میں پستا رہا ہے۔ کمزور اور مظلوم دونوں ہی قوت کے آثار اور اس کی صدا کو صبح کی کرن سمجھتے ہوئے اس کا استقبال کرتے ہیں۔ جو رات کی تاریکیوں کا سینہ چیر کر صبح کو روشن کرتی ہے، اس انصاف پرور قوت کے کیا کہنے کہ جب حق کا اثبات اور باطل کا خاتمہ ہوجائے! وہ قوت جو لوگوں کے درمیان عدل کے ترازو قائم کردے، اور ان میں انصاف کا بول بالا کردے۔ درحقیقت یہی وہ قوت ہے جس کا اسلام حکم دیتا ہے اور مسلمانوں کی اس کے مطابق تربیت کرتا ہے بلکہ اسلام تو اس کے لیے ہر اعلیٰ چیز بلکہ اپنی جان تک قربان کردینے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے: (( المؤمن القوي خیر وأحب إلی اللّٰه من المؤمن الضعیف، وفي کل خیر )) [1] [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۶۴)