کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 121
بننے سے علیحدہ رہنا اور ان کی گہری کھائی میں گرنے سے بچنا از بس ضروری ہے۔ اس ربانی وعدے کے مقابل انسان کے لیے فقیری کا شیطانی وعدہ بھی ہے، وہ انسان کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ اگر اس نے اﷲ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال سے کچھ خرچ کیا تو وہ فقیر اور غربت زدہ ہوجائے گا۔ اور علامہ ابن قیم کے الفاظ میں شیطان کا وعدہ جھوٹے، غدار اور نافرمان کا وعدہ ہے۔[1] لہٰذا جو اس کے وعدے کے دھوکے میں آجاتا ہے وہ حقیقت میں فریب خوردہ اور نقصان رسیدہ ہوتا ہے۔ جو اس کے دھوکے میں آجاتا ہے اور اس کی پکار پر لبیک کہتا ہے تو پھر وہ اس کو اٹھا کر بد ترین جگہوں پر چھوڑ آتا ہے۔ اور یہ بھی غور طلب بات ہے کہ شیطان کا انسان کو فقر سے ڈرانا اس کی خیر خواہی یا اس پر شفقت کرنے کی غرض سے نہیں، جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کو نصیحت کرتا ہے، نہ اس وجہ ہی سے ہے کہ وہ اسے ہمیشہ مالدار دیکھنے کا خواہشمند ہے، بلکہ اس کا فقیر اور حاجتمند رہنا تو اس کو ہر چیز سے زیادہ بھلا لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جو انسان کو فقیری سے ڈراتا اور اسے بخل کا حکم دیتا ہے تو اس کی غرض صرف یہ ہے کہ انسان اپنے پروردگار کے متعلق بدگمان ہوجائے، اس کی رضا کی خاطر اس کی پسندیدہ جگہوں پر خرچ کرنا چھوڑ دے اور حرمان نصیبی کا مستحق ہوجائے۔ اہل اسلام! یہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور وہ شیطان کا وعدہ۔ اب بخیل اور خرچ کرنے والے کو دیکھنا چاہیے کہ دونوں وعدوں میں سے کون سا وعدہ زیادہ قابل اعتبار ہے؟ کس کے وعدے پر دل مطمئن ہوتا ہے؟ اﷲ جسے چاہے توفیق سے نوازتا ہے اور جسے چاہے ذلت کی پستیوں میں گرا دیتا ہے، وہ بہت زیادہ وسعت اور علم والا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: { اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ وَ اللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ} [البقرۃ: ۲۶۸] ’’شیطان تمھیں فقر کا ڈراوا دیتا ہے اور تمھیں شرمناک بخل کا حکم دیتا ہے اور اﷲ تمھیں اپنی طرف سے بڑی بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور اﷲ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ [1] طریق الھجرتین و باب السعادتین (ص: ۵۵۴)