کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 111
قبولیت کی گھڑی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں اس دن کی بعض خوبیاں اور خصوصیات شمار کی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین خصوصیت وہ ہے جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے کہ اس میں ایک گھڑی ہوتی ہے جسے جو مسلمان بھی پالے اور اللہ تعالیٰ سے جس چیز کو طلب کرے وہ اسے عطا کر دیتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وہ گھڑی جس میں قبولیت کی امید کی جاتی ہے اکثر احادیث کے مطابق عصر کی نماز کے بعد ہوتی ہے۔‘‘[1] ابو داود، حاکم اور نسائی میں صحیح حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( التمسوھا آخر ساعۃ بعد العصر )) [2] ’’اسے عصر کے بعد آخری ساعت میں تلاش کرو۔‘‘ اس دن کے لیے جو عبادات مشروع و مخصوص ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ سورۃکہف کی تلاوت کرنا، جیسا کہ سنن نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( من قرأ سورۃ الکھف في یوم الجمعۃ أضاء لہ من النور فیما بینہ وبین الجمعتین )) [3] ’’جو کوئی جمعے کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن کردے گا۔‘‘ نمازِ جمعہ کی فضیلت و اہمیت: اللہ کے بندو! اس بابرکت دن کی سب سے اہم خصوصیت اور سب سے عظیم کام نماز جمعہ ادا کرنا ہے۔ یہ تمام نمازوں میں مرتبے، تاکید اور ثواب کے اعتبار سے عظیم ترین نماز ہے۔ اسلام نے اس پر بھرپور توجہ دی ہے، اس کے لیے غسل کرنے، صفائی ستھرائی اختیار کرنے، خوشبو لگانے، ناپسندیدہ [1] تحفۃ الأحوذي (۲/ ۵۰۳) [2] صحیح۔ سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۰۴۸) سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۳۸۹) [3] المستدرک (۲/ ۳۹۹) سنن البیھقي (۳/ ۲۴۹)