کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 105
کردو۔ وہ کہتے ہیں: ہم نے تین جادوگر عورتوں کو قتل کیا۔‘‘[1] حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے صحیح حدیث مروی ہے کہ انھوں نے اپنی اس لونڈی کو قتل کرنے کا حکم دیا جس نے ان پر جا دو کیا، لہٰذا اس کو قتل کردیا گیا۔ [2] دیگر کئی صحابہ کرام اور تا بعین عظام سے بھی جا دو گر کو قتل کرنا ثابت ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے: ’’اکثر علماء کرام کا یہ موقف ہے کہ جادو گر کو قتل کیا جائے۔‘‘[3] اور یہی امام ابو حنیفہ، احمد اور مالک کا قول ہے۔ امام ابن قدامہ فرماتے ہیں: ’’یہی مشہور ہے، اس کا انکار ثابت نہیں، لہٰذا اس پر اجماع ہے۔‘‘[4] اسی طرح یہ تمام مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ان شعبدہ بازوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں، ان کے متعلق قومی سلامتی کے اداروں اور نگرانی کرنے والی کمیٹیوں کو اطلاع دیں، اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ بھر پور تعاون کریں۔ تاکہ یہ لوگ امت کے مسلّمہ عقیدے میں نقب لگانے، امن عامہ کو خراب کرنے اور معاشرتی استحکام کو کمزور کرنے کی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ آج دنیا ٹیکنا لوجی اور تمدن کے زمانے میں سانس لے رہی ہے۔ گمان تو یہ ہو نا چاہیے کہ لوگ خرافات سے دور بھاگیں، شعبدہ بازی کی مخالفت کریں اور فراڈ بازی کے خلاف جنگ کریں لیکن ایک غیرت مند کے لیے یہ کس قدر مقام مایوسی ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ خرافات بھی زمانے کے ہم قدم ترقی پذیر ہیں، اور خوش بختی کے حصول کی خواہش اقتصادیات، سماجیات اور میڈیا کے مختلف میدانوں میں اپنے قدم جما چکی ہے بلکہ اس سلسلے میں باقاعدہ بعض خصوصی چینلز اور میڈیا سیلز کا اجراء کیا جا چکا ہے جو ذہنوں میں تشویش اورشک کے بیج بونے کے لیے ان خرافات کاسر عام پر چار کررہے ہیں۔ [1] مسند أحمد (۱/ ۱۹۰) [2] موطأ الإمام مالک (۲/ ۸۷۱) [3] مجموع الفتاویٰ (۲۹/ ۳۸۴) [4] المغني لابن قدامۃ (۱۰/ ۱۱۱)