کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 104
صلی اللّٰه علیہ وسلم )) [1] ’’جوکسی نجومی یا کا ہن کے پاس گیا، اور جو وہ کہتا ہے اس کی تصدیق کی تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ (شریعت) کا انکار کیا۔‘‘ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو کو سات مہلک چیزوں میں شمار کیا ہے جس طرح صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔[2] اﷲ کے بندو! ستاروں اور برجوں سے احوال پرسی بھی ان تباہ کن اشیا میں شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس کی پیدائش فلاں برج میں ہو وہ اپنی زندگی میں خوش بخت ہوگا۔ مال، عزت، جاہ،خوش نصیبی جو چاہے گا حاصل کرے گا۔ اور جس کی پیدائش فلاں برج میں ہو تو وہ جنم جلا اور منحوس ہوگا، اور زندگی میں فلاں فلاں مصیبتوں اور دکھوں کو پائے گا۔ اس طرح کی دیگر رسوا کن اور بیہودہ باتیں پھیلا ئی جا تی ہیں جن کو شریعت مانتی ہے نہ عقل اور نہ منطق ہی تسلیم کرتے ہیں۔ بازاروں میں لوگوں کے پاس اس طرح کی عجیب عجیب باتیں بکثرت پائی جا تی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ان شیطانی اعمال سے بچنے کے لیے عقیدے اور ایمان کا مضبوط اور کثیف حصار کھینچا جا ئے۔ اسی طرح اس گمراہ گروہ کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہے جو امت کے سر پر منڈلاتا ہوا ایک عظیم خطرہ، معاشرتی امن کا جان لیوا دشمن، لوگوں کے عقائد خراب کرنے کی زبردست مہم، ان کی عقل کے ساتھ کھیلنے اور ان کے مال لوٹنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جادو گر کی سزا: جادو گر کی سزا قتل ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت جندب سے مرفوعاً اور موقوفاً بیان کیا ہے کہ جا دو گر کی سزا گردن زدنی ہے۔[3] بجالہ تمیمی کی حدیث میں ہے: ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ مراسلہ بھیجا کہ ہر جا دو گر کو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، قتل [1] صحیح۔ المستدرک (۱/ ۴۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۷۶۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۹) [3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۴۶۰) یہ حدیث موقوفاً ہی صحیح ہے کیونکہ مرفوع روایت کی سند میں اسماعیل بن مسلم راوی ضعیف ہے۔