کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 103
کے درمیان انتقام کے جذبے کو ہوا دینے کو استعمال کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے تعویذ گنڈے پیش کرتے ہیں۔ ان کافساد اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اس کی آنچ سے کوئی تعلیم یافتہ محفوظ ہے اور نہ کوئی عبادت گزار ہی۔ ان بد نصیبوں اور سوختہ بختوں نے کتنی ہی دشمنیوں کے بیج بو دیے ہیں اور کتنے ہی جرموں کی بنیاد رکھی ہے! اللہ ان کو تباہ کرے۔ یہ بظاہر لوگوں کے سامنے معجزانہ چیزیں پیش کرتے ہیں لیکن درحقیقت سادہ لوح لوگوں کو تعویذات اور طلاسم کے چکر میں ڈال دیتے ہیں۔ شعبدہ بازی محض فریب ہے: یہ اللہ کے دشمن رسوا ہوں، جو ہوا میں اڑتے ہیں، پانی پر چلتے ہیں، روحیں حاضر کرنے کے دعوے کرتے ہیں، عمل تنویم کے ذریعے لوگوں کو ہپنا ٹائز کرتے ہیں، ہاتھ پر پیالی رکھ کر شعبدہ بازی کے کرتب دکھا تے ہوئے آنکھوں کو دھو کا دیتے ہیں اور اس طرح کے دیگر مداری گری کے کرتب دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ کچھ عقل کے دشمن بڑی بھاری گاڑیوں کو دانتوں سے کھینچنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کچھ زمین پر لیٹ کر اپنے اوپر سے گاڑی گزارنے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور کئی دیگر دہائیوں کو سینکڑوں اور ہزاروں کو ملین میں تبدیل کرنے کی شعبدہ بازی کرتے ہیں اور مادی ہوس کے پجاری عقل سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( من أتی عرافا فسألہ عن شيء لم تقبل لہ صلاۃ أربعین لیلۃ )) [1] ’’جو کسی نجومی کے پاس گیا اوراس سے کچھ پوچھا تو چالیس دنوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔‘‘ ستاروں سے احوال پرسی کفر ہے : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( من أتی عرافا أو کاھنا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما أنزل علی محمد [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۲۳۰)