کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 100
جا رہا ہے اور بعض بدعتی رواجوں کے بازار کو گرم کیا جا رہا ہے۔ جادو اور شعبدہ بازی کے مظاہر اس جعل سا زی کے عملی نمونے ہیں جس کا شکار امت ہو چکی ہے۔ اسی کی وجہ سے اس کا مسلّمات، مبادیات، اور شرک وخرافات کی گندگی سے پاک عقیدے کا گراں قدر سرمایہ لٹ چکا ہے۔ اور یہیں پر بس نہیں بلکہ ہر روز فریب کاری، دروغ بافی، بیہودگی، افواہوں اور خرافات کی دنیا میں نت نئے طریقے متعارف کروائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے امت کے لیے اعتقادی تحفظ کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ توہمات کے جراثیم اور شعبدہ بازی کے خلیے امت اور معا شرے کی رگوں میں سرایت نہ کر سکیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا انجام بڑا خطرناک ہوگا، ہر طرف ویرانی چھا جا ئے گی کیونکہ شعبدہ بازی جس دل میں اتر جا ئے وہاں اندھیرا کردیتی ہے، اور جس معا شرے میں اپنے قدم ڈا ل دے وہاں تباہی پھیل جا تی ہے۔ عام لوگوں میں، جو افواہوں کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے ہیں اور نئی نئی باتوں کے چسکے میں اپنی عقل معطل کر دیتے ہیں، یہ بیماری اس حد تک پھیل چکی ہے کہ اہل توحید کے ہوش وحواس اڑ چکے ہیں۔ یہ لوگ توہمات، جھوٹی باتوں اور خوابوں کے اس قدر دلدادہ ہو چکے ہیںکہ بے سوچے سمجھے ان کا شکار ہو جا تے ہیں۔ ان شعبدہ بازوں نے بہت سارے دین وملت کا درد رکھنے والوں کی عقلوں کو بھی گمراہی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ اس کے بعد یہ قابل نفرت طرز ہائے عمل عوام الناس اور سادہ لوح لوگوں کی عقل کے ساتھ کیا کچھ گل کھلا تے ہیں؟ اس کے بارے میں تو سوال ہی نہ کریں! اے اللہ کے بندو! ایمان کہاں چلا گیا اور دانشمند و سلیقہ شعار عقلیںکہاں کھو گئی ہیں؟ کیا ہم یہ آیا ت نہیں پڑھتے اور ان پر ایمان نہیں رکھتے: { وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ وَ اِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ یُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ} [یونس: ۱۰۷] ’’اور اگر اﷲ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کر لے تو کوئی اس کے فضل کو ہٹانے والا نہیں،