کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 97
اور وہ عباس کہ جنگ بدر میں کافروں کی طرف سے لڑتا ہوا آیا تھا اور ان لوگوں کے ساتھ قیدی بنا جنہیں محمد اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھیوں نے گرفتار کیا تھا۔ سب کی مشکیں کسی گئیں ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھ کر ان کو ایک خیمے میں گرفتار کر کے رکھا گیا۔ ان میں سے یہ عباس بھی تھا۔ رات کے اندھیرے چھائے سرور کائنات علیہ السلام نے عشاء کی نماز کی امامت کروائی اور پھر اپنے خیمے کی طرف چلے گئے۔ لوگ امام کائنات کے صحابہ سونے کے لئے اپنے خیموں کی طرف جانے لگے تو محسوس کیا کہ نبی کے خیمے سے سسکیوں کی آواز آرہی ہے۔ صحابہ کے دل پھٹ گئے۔ کیا معاملہ ؟ نبی کے خیمے سے رونے کی آواز آرہی ہے۔ کس کو جرات تھی کہ خیمہ عالی پہ دستک دے حضور سے جا کے سوال کرے۔ صدیق کے پاس پہنچے۔ ابوبکر تیرے سوا نبی سے کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ جا پوچھ کیا ہوا ہے؟ صدیق نے خیمے پہ دستک دی اجازت ملی پردہ اٹھایا۔ دیکھا کہ نبی کی آنکھوں سے آنسو اس طرح گر رہے ہیں جس طرح موسم برسات میں بارش کے قطرے گرتے ہیں۔ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر بتر ہے۔ صدیق نبی کا دیوانہ بغیر پوچھے رو پڑا۔ اپنے آقا کو روتے ہوئے دیکھا۔ رو پڑے۔ کہا یا رسول اللہ کیا ماجرا ہے ؟ آپ بے قرار ہیں آنکھوں میں آنسو ہیں۔ ماجرا کیا ہے ؟ کہا ابوبکر میں اپنے چچا کو رسیوں میں بندھا ہوا جکڑا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے جب یہ خیال آتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا چچا بندھا ہوا گرفتار حالت میں پڑا ہے میرا جی بے قرار ہو جاتا ہے۔ میری آنکھوں سے چین رخصت ہو گیا۔ اس چچا سے اتنا پیار تھا۔ ابھی یہ مسلمان نہیں ہوا تھا۔ چچا جو تھا۔ پھر حضور نے کہا ابو بکر اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو منصف بنا کے بھیجا ہے۔ جو فیصلہ ساروں کا ہو گا وہی چچا کا بھی ہو گا لیکن دل پہ میرا اختیار نہیں۔ دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ خون اور گوشت کا ایک لوتھڑا ہے یہ متاثر ہوتا ہے اور نبی پاک بڑے نرم مزاج انسان تھے۔ لوگوں کی معمولی تکلیف پر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ اتنا پیار تھا اور اس چچا کو نبی کائنات نے اپنا باپ قرار دیا تھا۔ اوروں کی بات چھوڑو خود یہ بنو ہاشم کا سردار کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے قبیلے بنو ہاشم میں حضرت