کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 94
ہیں۔ درس میں چونکہ مسلسل گفتگو ہونا ہوتی ہے اس لئے آدمی انتہائی اطمینان کے ساتھ مسائل کو بیان کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے فضل سے ہم نے چونکہ خطبات جمعہ کا سلسلہ بھی اسی موضوع پر اگلے کئی خطبات میں استوار کرنا ہے۔ اس لئے یہاں بھی کئی مسئلے ایسے بیان ہو جائیں گے جو شاید آپ نے زندگی میں کبھی نہ سنے ہوں اور تقریر میں بیان ہی نہیں ہو سکتے۔ جلسوں میں بیان نہیں ہو سکتے۔ جمعے کے خطبے میں امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ بندہ رب سے جو دعا مانگتا ہے رب اسے پورا فرما دیتا ہے۔ اسی بہانے سارے لوگ دل کی گہرائیوں سے خلوص کے ساتھ یہ دعا کرو اللہ ہمیں اپنی ذات کے لئے نہیں تیرے دین کی نشر و اشاعت کے لئے ایک بڑی مسجد کی ضرورت ہے اور اللہ تیری مہربانی اور توفیق سے ہم نے لارنس روڈ پر مسجد کی ایک ایکٹر جگہ خرید لی ہے۔[1] اللہ ہم بڑے کمزور ہیں ہمارے [1] شہید اسلام حضرت علامہ شہید نے لارنس روڈ پر واقع ۵۳ نمبر کوٹھی خریدی۔ غالباً ستر لاکھ کا یہ سودا تھا۔ اس کو گرا کر یہاں جمعیت اہل حدیث کے مرکزی دفاتر‘ وسیع و عریض مسجد‘ لائبریری‘ طلباء کے لئے ہاسٹل وغیرہ کی تعمیر کا منصوبہ تھا۔ اس وقت علامہ شہید نے اس کا جو نقشہ تیار کروایا تھا‘ اس میں اس عمارت کی سات منزلیں تھیں۔ جب کہ اخراجات تعمیر ایک کروڑ سے زائد تھے۔ یہ ۱۹۸۶ء کی بات ہے۔ علامہ شہید نے اس جگہ کا نام مرکز اہل حدیث رکھا تھا۔ آپ کے ارادے بہت پختہ اور منصوبے بڑے وسیع تھے۔ ۱۹۸۶ء کے رمضان المبارک میں آپ نے یہاں باقاعدہ نماز تراویح اور خطبات جمعہ کا اہتمام کیا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد آپ کی اقتداء میں نماز تراویح میں شریک ہوتی۔ خطبات جمعہ میں لوگوں کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ مرکز اہل حدیث میں صرف مرد نمازی ہوتے۔ جب کہ ساتھ والی کوٹھی میں خواتین کے لئے اہتمام کیا جاتا۔ جگہ کی قلت کے باعث لارنس روڈ پر صفیں بچھائی جاتیں۔ اس کے بعد باغ جناح میں بھی صف بندی ہوتی تھی۔ نماز جمعہ ارشاد فرمایا تو یہ اعلان کیا کہ چینیانوالی مسجد میں میرا یہ آخری خطبہ ہے۔ آئندہ نماز جمعہ مرکز اہل حدیث ۵۳ لارنس روڈ میں ادا کی جائے گی۔ لیکن قدرت کو یہ منظور نہ ہوا اور آپ کی شہادت الم ناک سانحہ پیش آ گیا۔ آپ کی شہادت کے بعد مرکز اہل حدیث صرف جامع مسجد اہل حدیث رہ گیا۔ آپ کے تمام منصوبے آغاز سے قبل ہی ختم ہو گئے۔ بلکہ یہ مسجد بھی ابھی ادھوری ہے اور یہ اس نقشے کے مطابق بھی نہیں جو حضرت علامہ شہید کا تجویز کردہ تھا۔ علامہ شہید کی شہادت کے بعد جمعیت اہل حدیث کو بڑے افسوسناک حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ جن کے بیان کا یہ موقع نہیں۔ اب شاید مستقبل میں اللہ کا کوئی بندہ اٹھے اور جامع مسجد اہل حدیث ۵۳ لارنس روڈ کو ایک بار پھر مرکز اہل حدیث بنا دے۔ یقینا اس سے ہمارے مرشد کی حسنات میں بے شمار اضافہ ہو گا۔