کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 7
کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ مصنف: عمر فاروق قدوسی پبلیشر: مکتبہ قدوسیہ لاہور ترجمہ: حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمتہ اللہ علیہ ابتدائی حالات اور تعلیم : امام العصر حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ۳۱ مئی ۱۹۴۵ء کو جمعرات کے روز پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت سیالکوٹ کے محلہ احمد پورہ میں ہوئی۔ اس محلے کا نام آپ کے دادا احمد دین کے نام پہ رکھا گیا۔ اس زمانے میں حضرت مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کے علم و فضل کا بڑا شہرہ تھا۔ اس لئے آپ کے والد حاجی ظہور الٰہی صاحب بھی مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کے علم و فضل کے گرویدہ ہو گئے نہ صرف گرویدہ ہوئے بلکہ ان کے دروس اور پند و نصائح سے متاثر ہو کر اپنے دل میں یہ پختہ ارادہ کر لیا کہ اگر اللہ نے بیٹا دیا تو اس کو نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا طالب علم بناؤں گا۔ چنانچہ اسی سوچ کے نتیجہ میں حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر کو قریبا ساڑھے سات سال کی عمر میں پرائمری کلاس سے فراغت کے بعد مسجد بازار پنساریاں سیالکوٹ میں حفظ کے لئے داخل کرا دیا گیا۔ اس طرح آپ نے ۹ برس کی عمر میں حفظ قرآن کا مرحلہ طے کر لیا۔ اسی سال آپ نے اس کم عمری کے باوجود رمضان المبارک میں قرآن پاک سنایا۔ اس کے بعد آپ نے مختلف دینی مدارس میں ابتدائی علوم سے آگاہی حاصل کی۔ پھر آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ چلے آئے کہ وہاں برصغیر پاک و ہند کے عظیم ترین محدث حضرت العلام حضرت حافظ محمد گوندلوی رحمتہ اللہ علیہ شمع حدیث کو فروزاں کئے ہوئے تھے اور دور دور سے پروانے کھنچے چلے آرہے تھے۔ یہاں آپ کے اساتذہ میں شیخ الحدیث حضرت مولانا ابو البرکات احمد رحمہ اللہ تعالیٰ بھی شامل تھے۔ جامعہ اسلامیہ میں آپ نے حدیث کی کتابوں سے فراغت حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں مولانا شریف اللہ سے فلسفہ اور منطق پڑھی۔ اس طرح ۹۶)ء تک آپ اپنی دینی تعلیم مکمل کر چکے تھے۔ اسی سال آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں بی ۔ اے آنرز کی ڈگری بھی