کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 274
بھالی بھیڑیں ہو ان کی بات نہ سننا۔ ہم کہتے ہیں جس کی جی چاہے سنو۔ سودا جہاں سے کھرا ملے لے لو۔ جاؤ یزدانی اعلان نہیں کرتا میں اعلان کرتا ہوں۔ دوست اپنی مسجد میں میرا جمعہ رکھیں اور یزدانی کی مسجد میں خود جمعہ پڑھائیں۔ ہم اس بات کے لئے تیار ہیں۔ مجھے یہ سودا منظور ہے۔ جس دن کا جمعہ تم چاہو ہماری مسجد میں تم پڑھاؤ تمہاری مسجد میں ہم پڑھائیں۔ تم اپنا سودا ہمارے بندوں کے سامنے پیش کرو۔ ہم اپنا سودا نہیں رسول کا سودا تمہارے بندوں کے سامنے پیش کریں جس کا دل چاہے رسول کی بات کو مان لے جس کا دل چاہے تمہاری بات کومان لے۔ فیصلہ کر لو۔ جب جی چاہے فیصلہ کر لو۔ مجھے تین پیسے کا خط لکھ دینا۔ یزدانی کو پکڑ کے میں لے جاؤں گا اگر اس پر اعتماد نہیں ہے۔ فیصلہ تم کر لو۔ جس دن چاہے جمعہ رکھ لو۔ اور سن لو میں نے ایک دن یہ بات ان کے بہت بڑے آدمی سے کہی تھی۔ اس نے کہا ہم نعت سنائیں گے۔ تمہارے وہابیوں نے کبھی نعت نہیں [1]سنی خشک لوگ ہیں۔ نعت سنائیں گے ان کے دل پھر جائیں گے ہم لے جائیں گے۔ ہم نے کہا جو ہم کو چھوڑ کے چلا جائے ہم اس کی طرف پلٹ کے دیکھنے کو بھی تیار نہیں ہیں لے جاؤ۔ جو نعت سن کے پھسل جائے ہم کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ پہلے ہی لے جاؤ۔ ہم نے کیا کرنا ہے ؟ بات تو سیدھی سادھی ہے؎ بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا [1] اہل حدیث کے متعلق عموماً پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ خشک لوگ ہوتے ہیں ۔ نعت سے ان کو کوئی رغبت نہیں ہوتی ۔ حالانکہ واقعاتی اعتبار سے یہ بات بالکل غلط ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل حدیث کی محبت کی شدت ہے کہ اس میں وہ کسی دوسرے کی شراکت گوارہ ہی نہیں کرتے چاہے وہ امت محمدیہ کی کیسی ہی برگزیدہ شخصیت کیوں نہ ہو ۔ اہل حدیث کے اس رویے کو مخالفین خشکی پر مبنی قرار دیتے ہیں اور اس کو بطور طعنہ بھی استعمال کرتے ہیں ۔ جہاں تک نعت گوئی کی بات ہے ، سال 2000ء میں نعت کا سیرت ایوارڈ نامور اہل حدیث شاعر محترم علیم ناصری کو ان کے مجموعہ کلام ’’ طلع البدر علینا ‘‘ پر دیا گیا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ معاندین کا اہل حدیث سے محض یہ بغض ہے ۔