کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 270
جائے ایک پلڑے میں اسے رکھا جائے ایک پلڑے میں صرف اس بڑے کو رکھا جائے اس بڑے کا اکیلے کا پلڑا بھاری رہے۔ اتنا بڑا ہے۔ منصف اتنا کہ ساری کائنات کے ظالموں پر اس کے انصاف کو تقسیم کر دیا جائے تو کائنات کے سارے ظالم عادل بن جائیں۔ بڑا بھی موجود ہے منصف بھی موجود ہے۔ پھر جھگڑا کیا ہے؟ یا کہو کہ بڑا نہیں مانتے یا کہو منصف نہیں مانتے۔ اگر دونوں مانتے ہو پھر اپنا کیس اس کی بارگاہ میں رکھنے میں دشواری دقت ہچکچاہٹ کیا ہے؟ چلو اپنا کیس لے کے چلتے ہیں۔ تم بھی چلو ہم بھی چلتے ہیں۔ پرانی بات نہیں کرتے کل کی بات کر لیتے ہیں۔ کیس کی بہت باتیں ہیں۔ ایک حل کر لیں پھر دوسری کر لیتے ہیں۔ تم نے کل جلوس [1]نکالا تمہاری نیت پہ مجھے کوئی شبہ نہیں۔ ہم نے نہیں نکالا تم نے ہماری نیت پہ شبہ کیا ہم نے تمہیں معاف کیا۔ کوئی بات نہیں ہے لیکن تمہارے گالی دینے سے تمہارے اعتراض کرنے سے مجھے پریشانی ہو گئی ہے۔ کامونکی کے سارے علماء کرام میں ایک طالب علم کی حیثیت سے پریشان ہوں۔ خدا کا واسطہ ہے میرا جھگڑا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے چلو۔ میں نے اسے بڑا بھی مانا میں نے اسے منصف بھی مانا۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے جو آواز آئے کعبے کے رب کی قسم میں آنکھیں بند کر کے ماننے کے لئے تیار ہوں۔ چلو ہم چلتے ہیں۔ مدینے والا پیدا ہونے کے بعد تریسٹھ سال زندہ رہا ہے۔ اور پیدائش کی بات پہ ذرا بشریت کا مسئلہ بھی طے کر لو۔ تم حضور کی وفات پہ جلوس نکالتے ہو کوئی دوست کسی کی موت پہ تو جلوس نہیں نکالا کرتا۔ کل یہ اختلاف تھا۔ ہائے؎ اڑا لی بلبلوں نے قمریوں نے عندلیبوں نے چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستاں میری ہم سے لڑتے ہو۔ ہم نے تو تمہارے ادھڑے ہوئے دامن کو رفو رفو کیا ہے۔ او ہم سے کیا لڑتے ہو ہم کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا [1] بارہ وقات کا جلوس جس کو آج کل عرف میں عید میلاد النبی کہا جاتا ہے ۔ ماضی قریب میں یہ اصطلاح 12 ربیع الاول کی تقریبات کے لیے بالکل استعمال نہیں ہوتی تھی ۔