کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 253
کے نام لیتے ہو۔ حسین کے باپ کے بیٹوں کا نام کیوں نہیں لیتے ؟ او دوسروں کے بیٹوں کا نام لیتے ہو کہ جعفر طیار کے بیٹے مارے گئے عقیل کے بیٹے مارے گئے عبد اللہ ابن جعفر کے بیٹے مارے گئے عوسجہ کا بیٹا مارا گیا۔ او یہ کیوں نہیں بتلاتے کہ علی کا بھی کوئی بیٹا شہید ہوا ہے کہ نہیں؟ کیوں نہیں بتلاتے ؟ دعوی سن لو۔ ساری دنیا میں ایک کتاب بھی ایسی نہیں جس میں کربلا کا واقعہ بیان ہوا ہو اور اس میں علی کے بیٹوں کا نام درج نہ ہو۔ مولوی ہر ایک کا نام لیتا ہے علی کے بیٹوں کا نام نہیں لیتا۔ کیوں نہیں لیتا ؟ اس لئے نہیں لیتا کہ کربلا کے واقعہ کی کتابوں میں لکھا ہے حسین کے ساتھ لڑتے ہوئے حسین کی حمایت کرتے ہوئے حسین کے جھنڈے کے نیچے تلوار چلاتے ہوئے سب سے پہلے جو شہید ہوا وہ علی کا بیٹا ابو بکر تھا پھر جو شہید ہوا وہ علی کا بیٹا عمر تھا پھر جو شہید ہوا وہ علی کا بیٹا عثمان تھا۔ نام اس لئے نہیں لیتے کہ اگر ابو بکر و عمر و عثمان کے نام آئیں گے سننے والے کہیں گے ان سے تو دشمنی تھی علی نے ان کے نام پہ اپنے بیٹوں کے نام کیوں رکھے؟ اس لئے کہ دشمنوں کے بیٹوں کے نام پہ کوئی بندہ اپنے بیٹوں کے نام نہیں رکھتا۔ کس کے نام پہ نام رکھتے ہیں ؟ دوستوں کے بیٹوں کے نام پر۔ پوچھے گا (ذاکر) روتا ہوا ہوش میں آجائے گا یہ ابو بکر کہاں سے آگیا یہ عمر یہ عثمان کہاں سے آگئے؟ پھر سب کا نام لیتے ہو حسن کے بیٹوں کا نام کیوں نہیں لیتے؟ کربلا کے جو شہید ہوئے ان میں حسن کا بیٹا ابو بکر تھا‘ حسن کا بیٹا عمر تھا‘ حسن کا بیٹا عثمان تھا۔ سب کے نام لیتے ہو‘ اصغر‘ اکبر۔ یہ تم نے نام رکھے۔ جاؤ کسی پرانی معتبر کتاب میں اصغر ‘اکبر کا نام دکھاؤ۔ جانتے ہو نام کیوں رکھے؟ چھپانے کے لئے کہ حسین کا جو پہلا بیٹا شہید ہوا‘ حسین کا اپنا بیٹا اس کا نام ابو بکر تھا حسین کا جو دوسرا بیٹا شہید ہوا اس کا نام عمر تھا‘ حسین کا تیسرا بیٹا شہید ہوا اس کا نام عثمان تھا۔ اگر یہ تکرار ہو گئی ابو بکر ابن علی ‘ابو بکر ابن حسن ‘ابو بکر ابن حسین ‘عمر ابن علی‘ عمر ابن حسن‘ عمر ابن حسین ‘عثمان ابن علی ‘عثمان ابن حسن‘عثمان ابن حسین۔ لوگ پوچھیں گے یہ اتنے نام کہاں سے آگئے ؟ سب شہید ہوئے۔ باقی ایک بچا جس کا نام علی زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ تھا بیمار تھے‘