کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 207
کہا نہیں ۔ شرط یہ ہے حکومت اس طرح کرو گے جس طرح صدیق و فاروق نے کی تھی خلفاء راشدین کے طریقے پر۔ امیر معاویہ نے کہا منظور ہے۔ ۴۱ھ میں چند مہینے کے بعد حضرت حسن خلافت سے دستبردار ہو گئے اور امیر معاویہ کو متفقہ طور پر اجماع کے ساتھ بغیر کسی اختلاف کے امیر المومنین اور خلیفتہ المسلمین مان لیا گیا۔ کوئی اختلاف باقی نہیں رہا۔ گھر میں بلایا۔ آؤ میں تیری بیعت کرتا ہوں۔ چھپ کر پوشیدہ طور پر لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہو کر؟ رجال کشی کا حوالہ۔ تیری کتاب تیسری صدی ہجری کی کربلا میں چھپی چھاپنے والا بھی شیعہ لکھنے والا بھی شیعہ حاشیہ چڑھانے والا بھی شیعہ اور جس بستی میں چھپی وہ بستی بھی شیعہ۔ رجال کشی تیسری صدی کا مصنف ۱۰۲ صفحہ‘ کربلا کی چھپی ہوئی۔ تیرے امام کی لکھی ہوئی۔ کہا بلایا کوفہ کی جامع مسجد میں امیر معاویہ کو اپنے باپ کے منبر پر بٹھایا۔ حسن اپنے بھائی حسین کو لے کر منبر سے نیچے بیٹھے۔ حضرت امیر معاویہ کو منبر کے اوپر بٹھایا۔ پھر کھڑے ہوئے ساری قوم کو خطاب کیا۔ کہا لوگو! سن لو! آج کے بعد مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں رہا۔ ہم نے امیر معاویہ کو اپنا امام مان لیا ہے۔ او جو تیرے امام معصوم کا بھی امام تو اس کو امام کیوں نہیں مانتا؟ تو غیر معصوم تیرا امام معصوم اور جا ایک بات لکھتا جا آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے آج تم سننے پہ آئے ہو تو ہم بھی انشاء اللہ سنا کے جائیں گے شاید بقید زیست یہ ساعت نہ آسکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم سن لو پھر اور میری پشین گوئی بھی سن لو۔ ضیاء الحق کے دور میں بیگم کوٹ کی یہ آخری تقریر ہے۔ اس کے بعد ضیاء الحق نہیں رہے گا۔ اونچی بولو وہابیو ضیاء الحق… نہیں رہے گا