کتاب: خطبات شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 110
یا رسول اللّٰه قل لنا تعبیرہ اللہ کے رسول خواب بیان کیا ہے اس کی تعبیر بھی بتلا دیجئے۔ فرمایا اس کی تعبیر دین ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ میرے دین کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا اور اس میں اس کے اندر کوئی کمزوری‘ اس کی قوت میں کوئی کمی اس کے دین کی خدمت میں کوئی نقص پیدا نہیں ہو گا۔ صدیق رضی اللہ عنہ بھی دین کی خدمت کرے گا لیکن وقت تھوڑا۔ دین اگر پھیلے گا تو میرے فاروق کے دور میں پھیلے گا۔ چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔ کیسے پوری ہوئی ؟ ایسے پوری ہوئی کہ اس زمانے میں دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتیں‘ حکومتیں‘ تھیں۔ جس طرح آج دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں۔ ایک امریکہ اور ایک روس۔[1] اس زمانے میں بھی دنیا کی دو سپر طاقتیں تھیں۔ ایک روم دوسرا ایران۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں‘ دنیا کی سب سے بڑی حکومتیں‘ دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں تھیں۔ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچم کو اٹھایا اور دونوں طاقتوں پر بیک وقت حملہ کیا اور دونوں کے سروں کو اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا۔ روم کی سلطنت بھی فاروق کے زمانے میں دم توڑتی ہے۔ ایران کی سلطنت بھی فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں دم توڑتی ہے۔ اور پھر ایک دن آپ کا ایک یار‘ ساتھی‘ دوست آپ سے پوچھتا ہے عمر! اسلام لانے سے پہلے میں نے ایک دن تجھ سے پوچھا تھا تیری سب سے بڑی آرزو کیا ہے؟ تو تونے اس دن کہا تھا کہ میری سب سے بڑی آرزو یہ ہے کہ میرے پاس سو اونٹوں کا ریوڑ ہو جائے۔ سو اونٹ ہو جائیں میں ان کو چراؤں‘ اونٹنیوں کا دودھ پیوں ان کی اون سے خیمے بناؤں اور آرام کی زندگی گزاروں۔ بتلاؤ آج تم مسلمانوں کی سلطنت کے سربراہ ہو آج تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ [1] بحمداللہ روس افغان جنگ میں معاشی عدم استحکام کا شکار ہو کر ٹوٹ چکا ہے۔ اس کا ایک منفی اثر یہ ہوا ہے کہ امریکہ اپنے آپ کو دین کی واحد سپرپاور سمجھنے لگ گیا ہے۔ جو اس کے جی میں آتا ہے‘ کر رہا ہے۔ بالخصوص مسلمانوں کے خلاف اس کا رویہ بہت متعصبانہ ہے۔ جب کہ مسلمان حکمران اکثر و بیشتر امریکہ کے نمائندے بنے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں امریکی مفادات کی نگہبانی کر رہے ہیں۔ ان اللہ و انا الیہ راجعون