کتاب: خوشگوار زندگی کے 12 اصول - صفحہ 33
آٹھواں اصول : ذکرِ الٰہی جو لوگ دنیاوی تکالیف ومصائب کی وجہ سے ہر وقت غمگین رہتے ہوں، اور غموں اور صدموں نے ان کی خوشیاں چھین لی ہوں، ان کی طبیعت کی بحالی اور اطمینانِ قلب کیلئے آٹھواں اصول ’’ ذکرِ الٰہی ‘‘ ہے۔ سورۃ الرعد میں زندگی کی کامیابی وخوشحالی سے متعلق فرمانِ الٰہی ہے : { اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ أَ لَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ } (سورۃ الرعد : ۲۸) ’’ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوجاتے ہیں، یاد رکھو ! دل اللہ کے ذکر سے ہی مطمئن ہوتے ہیں ‘‘ ۔ ٭ سب سے افضل ذکر (( لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہ )) ہے ۔ ٭ اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کہ جس کے ایک ایک حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ ٭ پھر ( سُبْحَانَ اللّٰہ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ ) کہ جنھیں جنت کے پودے قراردیا گیا ہے۔ ٭ اور پھر (لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ) کہ جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ قرآن مجید کی مذکورہ آیت کی روشنی میں ہمیں بحیثیت ِمومن اس بات پر یقین کامل ہونا چاہیئے کہ ذکرِ الٰہی سے ہی دلوں کو تازگی ملتی ہے ، حقیقی سکون نصیب ہوتا ہے ، اور پریشانیوں اور غموں کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے ! لیکن افسوس ہے کہ آج کل بہت سارے مسلمان اپنے غموں کا بوجھ ہلکا کرنے اور دل بہلانے کیلئے گانے سنتے اور فلمیں دیکھتے ہیں، حالانکہ اس سے غم ہلکا ہونے کی بجائے اور زیادہ ہو تا ہے ، کیونکہ گانے سننا اور فلمیں دیکھنا حرام ہے ، اور حرام کام سے سوائے غم اور پریشانی کے اور کچھ نہیں ملتا َ۔ صحیح بخاری شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے : ((لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ ، وَالْحَرِیْرَ ، وَالْخَمْرَ ، وَالْمَعَازِفَ))( بخاری۔الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل