کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 97
میں کسی ایسے عطر کے لگانے میں حرج نہیں ہے، جس میں پھیلنے والی تیز خوشبو نہ پائی جاتی ہو۔ دلیل ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں : (( کُنَّا نَخْرُجُ مَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم فَنَضْمِدُ جِبَاھَنَا بِالْمِسْکِ عِنْدَ الْاِحْرَامِ، فَإِذَا عَرِقَتْ إِحْدَانَا سَالَ عَلیٰ وَجْھِھَا فَیَراھَا النَّبِيُّ صلي اللّٰہ عليه وسلم فَلاَ یَنْھَانَا۔)) [1] ’’ ہم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلتی تھیں ، احرام کے وقت اپنی پیشانیوں پر مشک کا لیپ لگالیا کرتی تھیں اور جب کسی کو پسینہ آتا تو یہ بہہ کر اس کے چہرے پر آجاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے اور منع نہیں کرتے تھے۔ ‘‘ علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (۵/ ۱۲) میں فرماتے ہیں : ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سکوت اختیار کرنا جواز کی دلیل ہے، اس لیے کہ آپ کسی غلط یا باطل کام پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ ‘‘ حالت احرام میں عورت پر کیا لازم ہے؟ اگر عورت احرام سے پہلے نقاب یا برقع پہنے ہو تو احرام کی نیت کے وقت انھیں اتار دے گی۔ برقع یا نقاب چہرہ کے اس پردے کو کہتے ہیں جس میں دونوں آنکھیں کی جگہوں پر دو سوراخ بنے ہوتے ہیں ، جن کے ذریعہ نقاب پوش یا برقعہ پوش عورت کو دکھلائی دیتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( لاَ تَنْتَقِبِ الْمُحْرِمَۃُ۔))[2] [1] ابو داؤد، کتاب المناسک، باب ما یلبس المحرم، رقم: ۱۸۳۰۔ [2] صحیح بخاری، ابواب العمرۃ، باب ما ینھی من الطیب للمحرم والمحرمۃ، رقم: ۱۵۳۴۔ ابوداؤد، کتاب المناسک، باب ما یلبس المحرم، رقم: ۱۸۲۵۔ ترمذی، ابواب الحج، باب ماجاء فی ما یجوز للمحرم لبسہٗ، رقم: ۸۳۳۔ نسائی، کتاب مناسک الحج، باب النہی عن ان تنتقب المرأۃ الحرام، رقم: ۲۶۷۴۔