کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 96
میں مقدر کردیا ہے، لہٰذا غسل کرکے تلبیہ پکارنا شروع کردو۔ انھوں نے ایسا ہی کیا، تمام مواقف میں وقوف کیا جب وہ پاک و صاف ہوگئیں تو خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، اس کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اب تم اپنے حج و عمرہ دونوں سے فارغ ہوگئی ہو۔ ‘‘ علامہ ابن القیم تہذیب السنن (۲/ ۳۰۳) میں لکھتے ہیں : ’’ صحیح احادیث میں واضح طور پر ثابت ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہلے پہل عمرہ کا تلبیہ پکارا تھا (یعنی عمرہ کا احرام باندھا تھا) اس کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جس وقت آپ حائضہ ہوگئیں حج کا تلبیہ پکارنے کا حکم دیا تھا۔ (یعنی حج کا احرام باندھنے کا حکم دیا تھا) تو اس طرح آپ قارنہ ہوگئیں ، اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کہا تھا: (( یَکْفِیْکِ طَوَافُکِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ۔)) [1] ’’ خانہ کعبہ کا تمہارا (ایک) طواف اور صفا و مروہ کی تمہاری (ایک) سعی تمہارے حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے۔ ‘‘ عورت احرام کے وقت کیا کرے گی؟ عورت احرام کے وقت وہی سارے اعمال انجام دے گی جو مرد انجام دیتے ہیں ، یعنی غسل کرے گی، اگر ضرورت ہوگی تو بال، ناخن کاٹ کرنا پسندیدہ بو کو زائل کرکے صفائی اور نظافت حاصل کرے گی، تاکہ حالت احرام میں ان کی ضرورت نہ پیش آئے کیونکہ حالت احرام میں ان کی ممانعت ہے، اگر ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے تو کوئی لازمی بات نہیں ہے، اس لیے کہ یہ چیزیں احرام کی خصوصیات میں داخل نہیں ہیں ۔ جسم [1] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ الاحرام وانہ یجوز افراد الحج والتمتع والقران، رقم: ۲۹۳۴۔