کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 95
ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: (( مَا یُبْکِیکِ؟ لَعَلَّکِ نَفِسْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ھٰذَا شَيْئٌ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلیٰ بَنَاتِ آدَمَ، اِفْعَلِي مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لاَّ تَطُوفِي بِالْبَیْتِ۔)) [1] ’’ کیوں رو رہی ہو؟ شاید تمہیں حیض آگیا ہے؟ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنات آدم (خواتین) پر لکھ دی ہے، حج کے تمام ارکان ادا کرو سوائے طواف کعبہ کے۔ ‘‘ اور سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ روایت میں ہے، اس کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپ بیٹھی رو رہی ہیں ۔ دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: مجھے حیض آگیا ہے۔ لوگ (عمرہ سے) فارغ ہوگئے اور میں نہیں ہوئی اور نہ خانہ کعبہ کا طواف کیا، جب کہ طواف کرنے کے بعد اب لوگ حج کے لیے نکل رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((إِنَّ ھٰذَا أمْرٌ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلیٰ بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَھِلِّيْ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ کُلَّھَا حَتّٰی إِذَا طَھَرَتْ طَافَتْ بِالْکَعَبْۃِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِیْعًا۔)) [2] ’’ یہ ایک ایسا معاملہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے بنات آدم (خواتین) کے حق [1] صحیح بخاری، کتاب الحیض، باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت، رقم: ۳۲۵۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ الاحرام وانہ یجوز افراد الحج والتمتع والقران، رقم: ۲۹۱۹۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ الاحرام وانہ یجوز افراد الحج والتمتع والقران، رقم: ۲۹۱۸۔ نسائی، کتاب مناسک الحج، باب فی المھلۃ بالمعرۃ تحیض، رقم: ۲۷۶۴۔