کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 94
محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ اب میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل کرکے لنگوٹ باندھ لو اور احرام پہن لو۔ ‘‘ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( اَلنُّفَسَائُ وَالْحَائِضُ إِذَا أَتَیَا عَلیٰ الْوَقْتِ یُحْرِمَانِ وَقَضِیَّانِ الْمَنَاسِکَ کُلَّھَا غَیْرَ الطَوَّافِ بِالْبَیْتِ۔))[1] ’’ حیض و نفاس والی خواتین بھی میقات پر پہنچ کر احرام باندھ لیں گی اور تمام اعمال حج بجا لائیں گی، سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے۔ ‘‘ اسی طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب کہ وہ حالت حیض میں تھیں ، حج کا احرام باندھنے کے لیے غسل کا حکم دیا تھا۔ احرام کے وقت حیض و نفاس والی خواتین کے غسل کا مقصد نظافت حاصل کرنا اور ناپسندیدہ بو کا ختم کرنا ہے، تاکہ بھیڑ کے وقت لوگ ان سے اذیت نہ محسوس کریں ۔ اسی طرح نجاست میں تخفیف مقصود ہے۔ اگر حالت احرام میں عورت کو نفاس یا حیض آجائے تو اس سے احرام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، چنانچہ وہ حالت احرام ہی میں باقی رہے گی، تمام ممنوعات احرام سے اجتناب کرے گی، البتہ بیت اللہ کا طواف حیض و نفاس سے پاک ہوئے بغیر اور غسل (طہارت) کیے بغیر نہیں کرسکتی، اگر عرفہ کے دن بھی وہ نہیں پاک ہوسکی اور اس نے حج تمتع کا احرام باندھ رکھا تھا تو وہ حج کو عمرہ میں داخل کرکے حج کا احرام باندھ لے گی، اس طرح وہ قارنہ (یعنی حج قران کرنے والی) ہوجائے گی، اس لیے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا تھا، جب ان کو حیض آگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] ابو داؤد، کتاب المناسک، باب الحائض تھل بالحج، رقم: ۱۷۴۴۔ ترمذی، ابواب الحج، باب ما جاء ما تقضی الحائض من المناسک، رقم: ۹۴۵۔