کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 91
اس کے ساتھ اس کا محرم بھی ہو اور عورت بغیر محرم کے سفر پر نہ نکلے۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی حج کرنے کے لیے نکلی ہے اور میں نے فلاں فلاں غزوہ (جنگ) میں اپنا نام لکھوایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ ‘‘ اور سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی وہ حدیث بھی ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ ثَلاَثَۃً إِلاَّ مَعَھَا ذُوْ مَحْرَمٍ۔)) [1] ’’ عورت تین دن کا سفر نہ کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔ ‘‘ اس سلسلے میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں ، جن سے عورت کا بغیر محرم حج یا غیر حج میں نکلنے کی سخت ممانعت کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ عورت ایک کمزور مخلوق ہے، سفر میں ایسی مختلف پریشانیاں اور عوارض پیش آسکتے ہیں ، جن کا مقابلہ صرف مرد ہی کرسکتے ہیں ، نیز عورت بدقماش اور اوباش قسم کے لوگوں کی بدنیتی اور حرص و طمع کا نشانہ بن سکتی ہے، لہٰذا ایسے محرم کا ساتھ ہونا جو اس کو تحفظ فراہم کرسکے اور پریشانیوں سے اسے نجات دلاسکے، اشد ضروری ہے۔ عورت کے ساتھ حج کے لیے نکلنے والے محرم میں عقل، بلوغت اور اسلام کی شرط ضروری ہے، کیونکہ کافر قابل اعتماد نہیں ہوسکتا، اگر عورت محرم کی جانب سے نا امید ہوجائے تو لازمی طور پر کسی اور سے حج بدل کرائے گی۔ نفلی حج کے لیے خاوند کی اجازت: نفلی حج کے لیے عورت کو اپنے خاوند سے اجازت لینی ضروری ہے، کیونکہ حج میں [1] صحیح بخاری، کتاب جزاء العید، رقم: ۱۸۶۲۔ ابو داؤد، کتاب المناسک، باب فی المرأۃ تحجّ بغیر محرم، رقم: ۱۷۲۷۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج، رقم: ۳۲۵۸۔ ابن ماجہ، ابواب المناسک، باب المرأۃ تحجّ بغیر ولی، رقم: ۲۸۹۸۔ ترمذی، ابواب الرضاع، باب ما جاء فی کراھیۃ ان تسافر المرأۃ وحدھا، رقم: ۱۱۷۵۔