کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 90
نُجَاھِدُ؟ قَالَ: لٰـکِن أَفْضَلُ الْجِھَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔))[1] ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں ، کیا ہم جہاد نہ کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن تمہارے لیے سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔ ‘‘ حج سے متعلق خواتین کے چند مسائل حسب ذیل ہیں : عورت کا سفر حج کن کے ساتھ ہو: محرم: حج کی فرضیت کے لیے مرد و زن کے حق میں چند عام شرائط ہیں ، جو یہ ہیں : اسلام، عقل، حریت (آزادی) بلوغت اور مالی استطاعت۔ خواتین کے حق میں ایک مخصوص شرط ایسے محرم کا وجود بھی ہے جو اس کے ساتھ سفر حج کے لیے نکل سکے، محرم خود اس کا خاوند ہوگا یا ایسا شخص ہوگا، جس پر عورت ہمیشہ کے لیے بسبب نسب حرام ہوگی، جیسے اس کا والد یا بھائی یا بیٹا یا کسی مباح سبب کی وجہ سے حرام ہوگی، جیسے رضاعی بھائی یا اس کی والدہ کا شوہر یا اس کے شوہر کا لڑکا۔ دلیل سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیث ہے، جس میں ہے کہ آپ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں فرماتے ہوئے سنا: (( لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِاِمْرَأَۃٍ إِلاَّ وَمَعَھَا ذُوْ مَحْرَمَ، وَلاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ مَعَ ذِيْ مَحْرَم، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنَّ اِمْرَأَتِیْ خَرَجَتْ حَاجَّۃً، وَإِّنِّيْ اِکْتَتَبْتُ فِیْ غَزْوَۃٍ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَحَجِّ مَعَ اِمْرَأَتِکَ۔)) [2] ’’ کوئی (اجنبی) مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں نہ ہو مگر یہ کہ [1] صحیح بخاری، کتاب المناسک، باب فضل الحج المبرور، رقم: ۱۵۲۰۔ [2] صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل بامراۃ الا ذو محرم، رقم: ۵۲۳۳۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج، رقم: ۳۲۷۲۔