کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 89
باب ہشتم: حج عمرہ سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل خانہ کعبہ کا حج امت اسلامیہ پر فرض کفایہ ہے اور ہر اس مسلم فرد پر جس کے اندر حج کی شرائط موجود ہوں ، زندگی میں ایک بار حج کرنا فرض ہے، ایک سے زائد بار حج نفل شمار ہوگا۔ عورتوں کا جہاد حج کرنا ہے: حج اسلام کا ایک رکن ہے۔ نیز مسلم خواتین کے حق میں جہاد کا درجہ رکھتا ہے۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جس میں انھوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا: (( یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم ! ھَلْ عَلَی النِّسَائِ جِھَادٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لاَ قِتَالٌ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) [1] ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! ان پر ایک ایسا جہاد ہے جس میں جنگ نہیں ہے، وہ حج و عمرہ ہے۔ ‘‘ (امام احمد، امام ابن ماجہ رحمہما اللہ نے صحیح سند سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔) صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: (( یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم ! نَرٰی الْجِھَادَ أَفْضَلْ الْعَمَلِ، أَفَلاَ [1] المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۹/ ۲۵۳۷۷، ۹/ ۲۴۴۷۲۔ ابن ماجہ، ابواب المناسک، باب الحج جہاد النساء، رقم: ۲۹۰۱۔