کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 88
’’ کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ روزہ رکھے حالانکہ اس کا شوہر موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے۔ ‘‘ امام احمد اور امام ابو داؤد رحمہما اللہ کے یہاں بعض روایات میں (( الا رمضان )) کا اضافہ ہے، یعنی رمضان کے روزوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ ان کے لیے خاوند کی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اگر شوہر نے نفلی روزوں کی اجازت دے دی ہو یا وہ موجود نہ ہو یا کسی کا شوہر ہی نہ ہو تو ایسی عورت کے لیے نفلی روزہ رکھنا مستحب ہے۔ خصوصاً جن ایام میں روزہ رکھنے کی فضیلت وارد ہے۔ مثال کے طور پر پیر و جمعرات کے دن، ہر ماہ میں تین دن (ایام بیض) [1]، شش عیدی روزے [2]، ذی الحجہ کے دس دن، عرفہ کا دن [3]، عاشوراء کا روزہ [4] ، ایک دن ما قبل یا ایک دن ما بعد کے ساتھ۔ ان تمام ایام میں روزے کی بڑی فضیلت ہے۔ البتہ رمضان کے روزوں کی قضاء اگر اس پر ہے تو پہلے روزوں کی قضاء کرے گی۔ قضاء کے بغیر نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ حائضہ اگر رمضان میں دن کے وقت پاک ہو: حائضہ اگر رمضان میں دن کے وقت حیض سے پاک ہوئی ہے تو اسے دن کے بقیہ حصہ کو کچھ کھائے پئے بغیر گزارنا چاہیے اور حیض کی وجہ سے چھوڑے ہوئے روزوں کے ساتھ اس دن کی بھی قضاء کرے گی، جس دن اس نے طہارت حاصل کی تھی۔ اس دن کے بقیہ حصہ کو کچھ کھائے پئے بغیر گزارنا رمضان کے ادب و احترام میں واجب ہے۔ [1] ایام بیض یعنی ہر اسلامی ماہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ مستحب ہے۔ [2] رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے بھی مستحب ہیں ۔ [3] نو ذوالحج کو روزہ رکھنا مستحب ہے، سوائے اس کے جس نے احرام باندھا ہے۔ [4] محرم الحرام کی نویں اور دسویں تاریخ کا روزہ بھی مستحب ہے۔ (تفصیل کتب احادیث میں ملاحظہ فرمائیے)