کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 87
کیا جائے، لہٰذا یہ تمام امور روزے کے منافی نہیں قرار دیے جائیں گے، جس طرح حیض کے خون کو قرار دیا گیا ہے۔ ‘‘ (۲۵/ ۲۵۱) حائضہ و حاملہ عورتوں کے روزوں کی قضاء کب تک ہے: حائضہ، حاملہ اور مرضعہ کو چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء دوسرے رمضان کے آنے تک واجبی طور پر کرلینی چاہیے۔ قضاء میں جتنی جلد بازی سے کام لیا جائے اتنا ہی زیادہ بہتر ہے، اگر اگلے رمضان شروع ہونے میں اتنے ہی دن باقی رہ گئے ہوں جتنے دن اس نے روزہ ترک کیا ہے، تو پچھلے رمضان کے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء کرلینی چاہیے تاکہ ایسا نہ ہو کہ دوسرا رمضان شروع ہوجائے اور اس پر پچھلے رمضان کے روزوں کی قضاء باقی ہو اور اگر ایسا ہوگیا کہ پچھلے رمضان کے روزوں کی قضاء کے بغیر دوسرا رمضان شروع ہوگیا اور تاخیر کا کوئی عذر معقول نہ ہو تو چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء کے ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلانا ہوگا اور اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہو تو صرف روزوں کی قضاء کی جائے گی۔ اسی طرح ان تمام لوگوں کا مذکورہ تفصیل کے مطابق ہی معاملہ ہوگا، جن پر بیماری یا سفر کی وجہ سے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء ہے، کیونکہ وہ بھی انہی عورتوں کے حکم میں ہوں گے، جنھوں نے حیض کی وجہ سے روزہ ترک کیا تھا۔ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا: خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی عورت کے لیے نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ دلیل امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ اور دیگر محدثین کی روایت کردہ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : (( لاَ یَحِلُّ لِاِمْرَأَۃٍ أَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِہٖ۔)) [1] [1] صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا تاذن المرأۃ فی بیت زوجھا الا باذنہ، رقم: ۵۱۹۵۔ المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۳/ ۱۰۱۷۲۔ ابو داؤد، کتاب الصوم، باب المرأۃ تصوم بغیر اذن زوجھا، رقم: ۲۴۸۵۔