کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 86
’’ اور جو لوگ اس کی بمشقت طاقت رکھنے والے ہیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں ۔ ‘‘ کے عموم میں حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت) بھی داخل ہیں ۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر (۱/ ۳۷۹) میں فرماتے ہیں : ’’ مذکورہ آیت کے مفہوم میں حاملہ اور مرضعہ بھی شامل مانی جائیں گی، بشرطیکہ انھیں اپنے اور اپنے بچوں پر خوف لاحق ہو۔ ‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ اگر حاملہ اپنے جنین (پیٹ کے بچہ) پر خوف محسوس کرتی ہو تو افطار کرے گی اور ہر دن کے بدلے ایک دن روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک مسکین کو ایک رطل [1] کھانا کھلائے گی۔ ‘‘ (مجموع الفتاویٰ: ۲۵/ ۳۱۸) تنبیہ ، مستحاضہ عورت پر روزہ فرض ہے: (۱مستحاضہ (استحاضہ والی عورت) جس کو ایسا خون آرہا ہو، جسے حیض کا خون نہیں کہا جاسکتا۔ جیسا کہ سابقہ سطور میں بیان کیا جاچکا ہے، اس پر روزہ فرض ہے، اس کے لیے افطار (روزہ کا ترک کرنا) جائز نہیں ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ حائضہ عورت کے افطار کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ برخلاف مستحاضہ کے، اس لیے کہ استحاضہ کا خون تمام اوقات میں آتا ہے، اس کا کوئی مخصوص و متعین وقت نہیں ہے کہ اس کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھنے کا اسے حکم دیا جائے، اس سے بچنا بھی ناممکنات میں سے ہے۔ جس طرح از خود قے آنا، زخم اور پھوڑوں کی وجہ سے خون کا نکلنا اور احتلام وغیرہ ہیں ۔ ان کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا کہ ان سے احتراز [1] رطل: ۴۰۸ گرام کے مساوی ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو: الایضاح والتبیان فی معرفۃ المکیال والمیزان، ص: ۵۶۔