کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 84
مسکین کو کھانا دیں ۔ ‘‘ سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ؛ ’’ یہ آیت ایسے عمر دراز بوڑھے شخص کے بارے میں ہے، جس کی شفایابی کی امید نہیں ہوتی۔ ‘‘[1] اور ایسا مریض جس کی بیماری سے شفایابی کی توقع نہ ہو وہ بھی عمر دراز بوڑھے شخص کے حکم میں ہوگا۔ عدم استطاعت کی وجہ سے ان دونوں پر روزے کی قضاء نہیں ہے۔ آیت میں (یُطِیْقُوْنَہُ) کے معنی ہیں : ’’ نہایت مشقت کے ساتھ برداشت کرنا۔ ‘‘ خواتین کو مخصوص طور پر چند عذر کی بنا پر ماہِ رمضان میں افطار کی اجازت ہے، لیکن عذر کی وجہ سے ترک کیے ہوئے روزوں کی قضاء لازم ہے۔ وہ عذر جن کی وجہ سے خواتین روزہ ترک کرسکتی ہیں ۔ مندرجہ ذیل ہیں : حیض و نفاس کی حالت میں روزہ حرام ہے: ان دونوں حالتوں میں عورتوں کے لیے روزہ رکھنا حرام ہے، لیکن دیگر ایام میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء ان پر واجب ہے۔ دلیل ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے، جو صحیحین میں مروی ہے، جس میں آپ فرماتی ہیں : (( کُنَّا نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّلوٰۃِ۔)) [2] ’’ ہمیں روزوں کی قضاء کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ ‘‘ آپ ( رضی اللہ عنہا ) نے یہ بات ایک عورت کے اس استفسار پر فرمائی تھی کہ کیا وجہ ہے کہ حائضہ عورت روزے کی قضاء کرے گی اور نماز کی قضاء نہیں کرے گی؟ تو آپ نے [1] صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ، رقم: ۴۵۰۰۔ [2] صحیح بخاری، کتاب الحیض، باب لا تقضی الحائض الصلوٰۃ، رقم: ۳۲۱۔ صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض دون الصلوٰۃ، رقم: ۷۶۳۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی الحائض لا تقضی الصلوٰۃ، رقم: ۲۶۲۔ ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ما جاء فی الحائض انھا لا تقضی الصلوٰۃ، رقم: ۱۳۰۔